50 طیارے 100 بم؛ خامنہ ای کا کئی گلیوں تک پھیلا ہوا زیر زمین بنکر کیسے تباہ ہوا؟ ویڈیو

0 minutes, 0 seconds Read
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیرِ استعمال ایک اور خفیہ زیرِ زمین بنکر کو ان کی شہادت کے بعد فضائی حملے میں تباہ کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ  یہ زیرِ زمین کمپلیکس تہران کے مرکزی علاقے میں واقع تھا اور کئی گلیوں کے نیچے پھیلا ہوا تھا۔

ترجمان اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ اس زیر زمین بنکر میں متعدد داخلی راستے، کمانڈ رومز اور اعلیٰ حکومتی و سکیورٹی حکام کے اجلاس کے لیے مخصوص کمرے بھی موجود تھے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بقول زیرزمین بنکر دراصل آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے جنگی حالات میں محفوظ پناہ گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا جہاں سے ہنگامی حالات میں حکومتی اور عسکری امور چلائے جا سکتے تھے۔

تاہم آیت اللہ خامنہ ای کو اس بنکر کو استعمال کرنے کا موقع نہیں مل سکا اور وہ اس سے قبل ہی ایک دوسرے کمپاؤنڈ اسرائیلی حملے میں اہل خانہ اور اہم ترین اعلیٰ دفاعی شخصیات کے ہمراہ شہید ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ زیر زمین بنکر آیت اللہ خامنہ ای تو استعمال نہ کرسکے لیکن ان کی شہادت کے بعد اعلیٰ حکومتی شخصیات اپنی میٹنگز کے لیے اسی جگہ کو استعمال کر رہی تھیں۔

اسرائیلی فوج نے اس آپریشن کے بارے میں بتایا کہ فضائیہ نے اس حملے کے لیے ایک مربوط آپریشن کیا جس میں بنکر کے مختلف حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا اور ثبوت کے طور پر میڈیا کو ویڈیو فوٹیجز کو بھی دکھائیں۔

ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول اس کارروائی میں تقریباً 50 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور زیر زمین بنکر کو نشانہ بنانے کے لیے 100 سے زائد بم گرائے گئے۔ جنھوں نے اسے مسمار کر کے رکھ دیا۔

تاہم ایران کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کے بارے میں کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ غیر جانبدار ذرائع سے اسرائیلی دعوؤں کی مکمل تصدیق بھی ابھی نہیں ہوسکی ہے۔

 

 

Similar Posts