ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایران میں جنگ کی صورتحال کا فائدہ اٹھاکر حکمرانوں نے پیٹرول مہنگا کردیا، حکومت کہتی ہے اٹھائیس دن کا اسٹاک ہے، پھر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں کیا؟۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کو 2200 روپے کا ریلیف دینا احسن اقدام ہے جس کی میں تعریف کرتا ہوں، پنجاب میں بھی مریم نواز کا 11 ارب کا جہاز فروخت کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 1300 سی سی سے اوپر سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے اور مفت پیٹرول کی سہولت ختم کی جائے۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کا کوئی ٹاون ناظم 1300 سی سی سے بڑی سرکاری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام پر ہر ہفتے پیٹرول بم پھینکنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، ہم اس پر بھرپور احتجاج اور مزاحمت کریں گے، انارکی اور انتشار نہیں پھیلانا چاہتے لہذا حکومت اپنے اقدامات فوری واپس لے، عید قریب آرہی ہے اور عوام کے چولہے ٹھنڈے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت جو ایران کیخلاف بات کررہا ہے وہ امریکا کا ایجنٹ ہے، امریکا، بھارت اور اسرائیل کے شیطانی اتحاد نے پوری دنیا کا امن تاراج کیا ہوا ہے، ایران کو برا کہنے والا امریکا اور اسرائیل کے لیئے کام کررہا ہے۔ ایران کے ہمارے سے ہماری پالیسی واضح ہونا چاہئے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو غزہ پیس بورڈ سے باہر آنا چاہئے، شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ جیسے درندے اور وار کرمنل کو نوبل انعام کیلئے نامزد کرنے پر قوم سے معافی مانگیں۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی ایران پر حملے کی مذمت تو کرتی ہیں لیکن براہ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل کی نام لیکر مذمت نہیں کرتے۔ سب لائن میں کھڑے ہیں کہ ٹرمپ ان کے سر پر ہاتھ رکھ دے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ ایران کی ریفائنریز پر امریکہ و اسرائیل حملہ کررہے ہیں، میں ایرانی قوم کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ ڈٹے ہوئے ہیں، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے پورے ایران کو متحد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے واضح کیا کہ وہ خلیجی ممالک میں کسی سولین پر اٹیک نہیں کرے گا، صرف اُن امریکی اڈوں کو جہاں سے ایران پر حملہ ہوگا انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ جنگ کو روکنے کیلئے روس اور چین کو اپنا کردار کرنا چاہئے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ میئر کراچی نے 400 کروڑ روپے کی لاگت سے تین سال میں کریم آباد پر انڈر پاس کے نام پر دو پتلی گلیاں بنائی ہیں، سندھ میں بدترین کرپشن کا بازار گرم ہے۔