مفاہمت ہی واحد آپشن

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان جن بڑے مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان سے باہر نکلنے کے لیے واحد راستہ مفاہمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ایک طرف داخلی مسائل ہیں جن میں معاشی، سیکیورٹی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل ہیں تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ جنگ ہے ،امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ اور خلیجی ممالک تک اس جنگ کا پھیلاؤ ہے جو ہمارے لیے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا باعث بن رہا ہے ۔یہ حالات فوری طور پر بہتر نہیں ہوں گے اور ان کے براہ راست اثرات ہم پر مرتب ہوں گے۔ایسے میں پاکستان کی قیادت کو زیادہ تدبر کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ہمیںغیر معمولی فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے بھی موجودہ صورتحال پر نہ صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے بقول قومی سیاست میں مفاہمت، مصالحت اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے ہی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ممکن ہوسکے گا اور یہ ہی استحکام نیشنل سیکیورٹی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

ان کے بقول تمام فریقین کو مل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کریں ۔یہ جو بھارت ، اسرائیل اور افغانستان پر مبنی گٹھ جوڑ ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے، ایسے میں ہمیں زیادہ حکمت کے ساتھ اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا جس میں سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور متفقہ طور پر حالات کا مقابلہ کریں ۔جنرل )ر(ناصر جنجوعہ نے جو باتیں کی ہیں اس میں فہم اور تدبر کی جھلک ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ قومی مفاہمت کا عمل کیسے شروع ہوگا اور کیسے مکمل ہوگا؟

 ادھر پی ٹی آئی کی کوٹ لکھپت جیل میں موجود قیادت نے بھی ایک خط کے ذریعے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی کے بانی سے ان کی ملاقات کرا دی جائے تو ہم بات چیت کی مدد سے سیاسی راستہ نکال سکتے ہیں لیکن اس خط کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے ۔

اگرچہ حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں کی قیادت مطمئن ہے کہ موجودہ حالات میں بھی ملک بہتر چل رہا ہے اور بعض وفاقی وزرا کے بقول نہ تو ملک کی سطح پر کوئی سیاسی تقسیم ہے اور نہ سیاسی محاذآرائی یا سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے۔ ان کی سوچ اپنی جگہ ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات نے پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس کا درست ادراک نہیں ہے۔اس حکومت نے حالات کی بہتری کے لیے جتنے بھی بڑے بڑے دعوے کیے تھے ، وہ تاحال تشنہ تکمیل ہیں۔ جنگی ماحول نے معیشت کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں ۔

مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب سیاسی لچک پیدا کرکے درمیانی راستہ پیدا کیا جائے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے حالات جلد نارمل ہوجائیں گے تو یہ اندازہ درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد جو کھیل جاری ہے یہ محض طاقت کی حکمت عملی، ڈکٹیشن یا مسلط کردہ ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل ہے جو امریکا ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں نے تیار کیا ہے۔ ہم یہ مشق پچھلے تین برسوں سے دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز عراق ، یمن ، لیبیا، شام اور غزہ سے ہوا تھا اور یہ ایران تک پہنچ گیا ہے مگر ہم اب تک سوائے خاموش تماشائی کے اور کچھ نہیں کرسکے ۔ باتیں تو بہت کی جاتی ہیںمگر حکومت کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس کا جائزہ کون لے گا۔کیونکہ حکومت اندرونی طور پر سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ علاقائی ماحول ٹھنڈا ہوا ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور ہم مجموعی طور پر اسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

 حکمران طبقات کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ مشیروں کے گھیرے میں ہوتے ہیں توان کو سب اچھا لگتا ہے اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اقتدار کافی مضبوط ہے اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے اور معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی اقتدار پر گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہے اور ان کے اپنے اندر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے ، معیشت جو پہلے بھی زیادہ اچھی نہیں تھی مزید کمزور ہو رہی ہے۔اب تھوڑا سا ملک کی سیاست پر بات ہوجائے۔حکومت کے اہم راہنما رانا ثنا اللہ کے بقول بانی پی ٹی آئی کو سیاسی ڈیل کی آفر کی گئی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ممکن ہو ایسا ہی ہو تاہم انھوں نے اپنی بات کی تردید بھی کردی ہے کہ کسی کو کوئی آفر نہیں کی گئی ، مفروضے کی حد تک یہ سوال بنتا ہے اگر کوئی آفرہوئی بھی تھی تو اس کا ایجنڈا اور نکات کیا تھے ؟تاکہ سب ہی جان سکیں کہ مفاہمت کے کھیل میںکس فریق کا کیا ایجنڈا ہے ۔

لیکن اب اس پر بات کرنے کا فائدہ اس لیے نہیں ہے کہ مبینہ ڈیل آفر کو کوئی فریق تسلیم نہیں کررہا ہے۔ بہرحال مسئلہ محض حکومت اور پی ٹی آئی کا نہیں ہے جیسے سابق لیفٹیننٹ جنرل)ر( اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک کی نیشنل سیکیورٹی کا براہ راست تعلق سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور معاشی سطح کا استحکام بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ملک کے داخلی سیاسی حالات مستحکم ہوں گے۔ کیونکہ معیشت کی ترقی براہ راست سیاسی استحکام ہی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ حالات کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ صرف سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہیں بلکہ ان حالات میں ہمارے لیے سیکیورٹی اور دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

Similar Posts