عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکومت نے یہ پابندی سکیورٹی خدشات کے باعث عائد کی اور صرف چند بزرگ فلسطینوں کو نماز کے لیے بیت المقدس میں داخل ہونے دیا۔
جس کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان فلسطینیوں نے مسجد الاقصیٰ کے باہر نماز جمعہ ادا کرنے پر مجبور ہوئے۔ جن کے ساتھ خواتین کی بھی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔
تاہم اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے اطراف بھی سخت پابندیاں عائد کر دیں تاکہ نماز کے بعد شرکا القدس ریلی نہ نکال سکیں۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاوہو نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں قیادت تبدیل کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تاہم انھوں نے ایران کی نئی ایرانی قیادت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر اور حزب اللہ کے رہنما کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے لیکن حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ بالآخر ایرانی عوام کو کرنا ہوگا۔