یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی دو فوجی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ سے براہِ راست منسلک امریکی فوجی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر کرتے ہوئے کہا ہے یہ فیصلہ ملک کی طویل عرصے سے قائم غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
سوئس حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ اتوار کو امریکی جاسوس طیاروں کی دو پروازوں کی درخواستوں کو مسترد کردیا گیا، جو سوئس فضائی حدود سے گزرنا چاہتی تھیں اور جن کا تعلق ایران جنگ سے بتایا گیا تھا۔
سوئس حکام نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی 3 دیگر پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں دو ٹرانسپورٹ طیارے بھی شامل ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ اگر امریکا کی جانب سے معمول سے زیادہ پروازوں کی درخواست دی گئی تو انہیں اس وقت تک مسترد کر دیا جائے گا جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ ان کا مقصد کیا ہے اور وہ جنگ سے منسلک نہیں ہیں۔
سوئس حکومت کے مطابق غیر جانبداری کے قانون کے تحت ایسے ممالک یا فریقین کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو جاری تنازع میں فوجی مقاصد کے لیے پروازیں انجام دے رہے ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سوئٹزرلینڈ مسلح تنازعات میں اپنی غیر جانبداری کی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اپنے داخلی ضابطوں پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔
سوئٹزرلینڈ کے مطابق انسانی اور طبی امداد سے متعلق پروازوں کو اجازت دی جا سکتی ہے، زخمیوں کی منتقلی اور غیر جنگی پروازوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔