ایران کے خلاف امریکا جنگ میں کتنے ارب ڈالر پھونک چکا ہے؟ امریکی ٹی وی پروگرام میں انکشاف

0 minutes, 11 seconds Read
ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

Kevin Hassett, Director of the US National Economic Council, said US military strikes on Iran have cost about $12 billion so far.

“The latest number I was briefed on was 12.” pic.twitter.com/kjq2sJpGTe
— Clash Report (@clashreport) March 15, 2026

پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔

تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔

دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

Similar Posts