امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں اب تک 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں زیادہ تر فوجی اور کمرشل اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی کے علاوہ باقی ممالک ابنائے ہرمز کھلونے میں ہماری مدد کریں کیونکہ امریکا کا ایک فیصد تیل بھی آبنائے ہرمز سے نہیں آتا بلکہ دیگر ممالک آبی گزر گاہ کی بندش سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے تمام بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز تباہ کر دیے، ایرانی بحریہ کی مائن بچھانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور ہمیں اب تک کوئی تصدیق نہیں کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں، جو ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں انہیں خود اقدام کرنا ہوگا، آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس کے دفاع میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک اس اقدام کے لیے انتہائی پُرجوش ہیں جبکہ کچھ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، امریکا اپنی تیل کی ضرورت کا ایک فیصد سے بھی کم آبنائے ہرمز سے حاصل کرتا ہے، جاپان اپنی 95 فیصد تیل کی درآمدات جبکہ چین 90 فیصد اور جنوبی کوریا کی 35 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے کرتا ہے، اب انہیں اس آبی گزر گاہ کو کھلوانے کیلیے آگے آنا ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں میزائل اور ڈرون بنانے کے تین مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایران میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا، ہمارے زیادہ تر اہداف فوجی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ ٹرمپ نے وارننگ دی کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے خارک آئل آئی لینڈ میں تیل تنصیبات پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 100 سے زائد ایرانی جہاز ڈبو دیے، دو ہفتے پہلے ایران مضبوط تھا، اب کمزور ہو چکا ہے اور اب کاغذ کا شیر بن چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کا دفاع کرتے ہیں مگر وہ ہمیشہ ہماری مدد نہیں کرتے، آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پیشگوئی پہلے ہی کر دی تھی جبکہ موجودہ بحران سمیت کئی بڑے واقعات کے بارے میں پہلے ہی بات کرچکا تھا اسی طرح برسوں پہلے اسامہ بن لادن اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اسی طرح ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی بہت پہلے بات کی مگر کوئی یقین نہیں کررہا تھا مگر اب سب نے دیکھ لیا ہے۔