اس ویڈیو کو ہزاروں افراد دیکھ چکے ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔
وائرل کلپ میں مبینہ طور پر ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ پاکستان نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کیا ہے اور اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو پاکستان سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی تاثر دیا گیا کہ پاکستان کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ٹرمپ کے نام سے یہ پیغام بھی منسوب کیا گیا کہ پاکستان کو اس تنازعے سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان معاملہ ہے۔
خدا دی قسم خواجہ محمد آ صف صاحب اسی راضی ہاں تیرے تے۔۔ شہزادہ
پاکستان ہمیشہ زندہ باد pic.twitter.com/fGeV5Lo8ax
— Karachi da Patwari (@MS_Pml_n) March 3, 2026
تاہم فیکٹ چیک کے مطابق یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وائرل ہونے والی یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اس میں شامل آڈیو بھی حقیقی نہیں۔
تحقیق کے دوران ویڈیو کے مختلف حصوں کو جانچنے کے لیے ریورس امیج سرچ کی گئی، جس سے پتا چلا کہ اصل فوٹیج 30 مئی 2025 کی ہے۔ یہ وہ موقع تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی تھی، جو ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی سے کافی پہلے کی بات ہے۔
اس مکمل پریس کانفرنس میں کہیں بھی پاکستان کے وزیر دفاع یا کسی ممکنہ جنگی صورتحال کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف ایک موقع پر پاکستان کا حوالہ آیا، جب ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر دونوں ممالک کے حکام کا شکریہ ادا کیا تھا۔
مزید برآں، اے آئی مواد کی نشاندہی کرنے والے پلیٹ فارم Hive Moderation نے بھی اس ویڈیو کا تجزیہ کیا اور اسے 95 فیصد سے زائد امکان کے ساتھ مصنوعی قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی آواز بھی جعلی طور پر تیار کی گئی ہے۔
نتیجتاً یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، اس کی فوج یا وزیر دفاع کے حوالے سے کوئی حالیہ بیان سامنے نہیں آیا، اور وائرل ویڈیو محض گمراہ کن معلومات پر مبنی ہے۔