امریکی تنہائی اور جنگ کے بڑھتے عالمی اثرات

0 minutes, 0 seconds Read
ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی شہید ہوگئے۔ ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیزکردیا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید کشیدگی کی زد میں آ گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں تاریخ، سیاست، معیشت اور عسکری طاقت ایک دوسرے میں اس طرح الجھ چکے ہیں کہ ان کو الگ الگ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اب کسی ایک خطے یا چند ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ، نظریات اور عالمی قیادت کی کشمکش ہے جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بظاہر ایک مضبوط اور خود مختار پالیسی کا اظہار ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہری سفارتی تنہائی چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ امریکا طویل عرصے سے عالمی اتحادوں کا محور رہا ہے، خصوصاً نیٹو جیسا طاقتور عسکری اتحاد اس کی قیادت میں کام کرتا رہا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں جب یہی اتحادی امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کر رہے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکا کی عالمی قیادت کمزور ہو رہی ہے یا دنیا ایک نئے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

نیٹو پر تنقید اور یورپی رہنماؤں، خصوصاً فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون، کے بیانات پر سخت ردعمل اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مغربی اتحاد میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں۔ یورپ کی بڑی طاقتیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ وہ اس کے طویل المدتی نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یورپ پہلے ہی یوکرین جنگ کے اثرات، توانائی بحران اور مہنگائی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ایک نئی جنگ میں شامل ہونا اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے امریکا کے قریبی اتحادیوں کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں ’’اندھا اتحاد‘‘ کا دور ختم ہو رہا ہے۔ اب ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں، چاہے اس کا مطلب امریکا جیسے طاقتور اتحادی سے فاصلہ ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری جانب ایران نے جس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، وہ ایک وسیع تر علاقائی پیغام کا حصہ ہے۔ ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوگا تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ سعودی عرب، کویت، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے دراصل ایک ’’ڈیٹرنس‘‘ پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے اتحادی ہیں اور سیکیورٹی کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں، دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک رکھا ہے، مگر کسی بڑی عسکری کارروائی سے گریز کیا ہے۔

اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کے باعث۔ حالیہ حملوں میں تہران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل اس موقع کو ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اس حکمت عملی کے بھی خطرات ہیں،کیونکہ ایران کے پاس براہِ راست اور بالواسطہ جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے، جیسا کہ لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں اس کے اتحادی گروپوں کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے۔

لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وادی بقاع میں حملے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ جنگ ایک ’’ پراکسی وار‘‘ سے نکل کر ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، اگر حزب اللہ جیسے گروہ مکمل طور پر اس جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں تو اسرائیل کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا اور فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کی سپلائی کس قدر غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ اور ایل این جی کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کسی عالمی مالیاتی بحران سے کم نہیں ہوں گے۔دنیا کے درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کئی ممالک نے ہنگامی اقدامات کے طور پر ایندھن کی بچت کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، جیسے کہ کم ورکنگ ڈیز، ریموٹ ورک اور ایندھن کی راشننگ۔ یہ اقدامات وقتی طور پر مددگار ہو سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور سرمایہ کاروں کا غیر یقینی صورتحال کا شکار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معیشت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی کساد بازاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں خلیجی جنگوں کے دوران دیکھا گیا تھا۔

امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ انسداد دہشت گردی عہدیدار کا استعفیٰ اور اس کا یہ کہنا کہ جنگ اسرائیل کے دباؤ کے باعث شروع ہوئی، امریکی پالیسی سازی میں موجود اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اختلافات مستقبل میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر عوامی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف ردعمل بڑھتا ہے۔

ایران کے اندر انسانی نقصان بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بڑی تعداد میں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سیکیورٹی اقدامات، جیسے کہ جاسوسی کے الزام میں سزائے موت، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران داخلی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہے۔

اگر اس جنگ کے ممکنہ مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو کئی خطرناک منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ مزید پھیل کر ایک مکمل علاقائی جنگ بن جائے، جس میں خلیجی ممالک، لبنان اور شاید دیگر طاقتیں بھی شامل ہو جائیں۔ دوسرا یہ کہ عالمی طاقتیں براہِ راست مداخلت کریں، جس سے یہ تنازع ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تیسرا منظرنامہ یہ ہے کہ طویل جنگ کے باعث عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر سب سے زیادہ ہوں گے۔تاہم ایک مثبت امکان بھی موجود ہے، اور وہ ہے سفارت کاری کا راستہ۔ اگر عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، چین اور دیگر غیر جانبدار طاقتیں مؤثر کردار ادا کریں تو جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے تمام فریقوں کو لچک دکھانی ہوگی اور اپنے فوری مفادات سے بالاتر ہو کر طویل المدتی استحکام کو ترجیح دینی ہوگی۔

 یہ جنگ ایک بار پھر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جدید دنیا میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ٹیکنالوجی نے فاصلے ختم کر دیے ہیں، وہاں کسی ایک خطے میں جنگ کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔

آخرکار، سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد دنیا کیسی ہوگی۔ کیا ہم ایک زیادہ غیر مستحکم، تقسیم شدہ اور خطرناک دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا ہم اس بحران سے سبق سیکھ کر ایک زیادہ متوازن اور پرامن عالمی نظام کی تشکیل کر سکتے ہیں؟ یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے، اور تاریخ ان کے فیصلوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

Similar Posts