عمران خان قید تنہائی میں ہیں انہیں کچھ پتا نہیں دن ہے یا رات، نیاز اللہ نیازی

0 minutes, 0 seconds Read
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج بھی کسی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، عمران خان کے ترجمان نیاز اللہ نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہیں کچھ پتا نہیں رات ہے کہ دن ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے لیے نیاز اللہ نیازی، صوبائی وزیر کے پی عاقب اللہ خان، ایم پی اے پنجاب تنویر اسلم راجہ میجر (ر) لطاسب ستی اور زین العابدین آئے تھے، فہرست میں نام ہونے کے باوجود جاوید کوثر اور چوہدری افتخار حسین ملاقات کے لیے اڈیالہ نہ آئے۔ فہرست میں نام نہ ہونے کے باوجود نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ داہگل ناکہ آئے تھے

ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے بات چیت میں ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ایک سال سے میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، ہماری توہین عدالت کی اپیلیں بھی نہیں سنی جارہیں، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہیں کچھ پتا نہیں رات ہے کہ دن ہے، عمران خان ایک عوامی شخصیت ہیں جس کی صحت کے حوالے سے ہر پاکستانی کو پریشانی لاحق ہے، ہماری عدالت سے گزارش تھی کہ میڈیکل بورڈ میں ذاتی معالجین کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں کورونا کے خلاف جو پالیسی دی گئی وہ تاریخی تھی، آج ملک کہاں کھڑا ہے، ملک میں اتحاد کی علامت عمران خان ہے جسے غدار کہہ کر الزامات لگاتے ہیں قوم ان کے ساتھ ہے، بانی کی صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا،
بانی کی بہنوں نے کہا ان کی صحت کے بارے میں تحقیق ہونی چاہیے معلوم تو ہو کہ ان کی صحت کیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ ذاتی ملازم بن چکی ہے، عمران خان ذاتی جنگ نہیں قوم کی نسلوں کی جنگ لڑ رہا ہے، ہم نے ہمیشہ کہا کہ پہلی ترجیج پاکستان ہے، ہر گورنمنٹ کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے، پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں امن کی خارجہ پالیسی دی، موجودہ حکومت کی کیا رٹ ہے بلوچستان اور کے پی کے میں دیکھ لیں، جب آپ کے پاس مینڈیٹ نہیں تو آپ کو عوام کا خیال نہیں رکھنا۔

نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ آپ نے کوئی اچھی پالیسی نہیں دی آپ کون سی سرمایہ کاری لے کر آئے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں اس خطے میں امن ہو، پاکستان بچے اور ترقی کرے، بانی کے طبی معائنہ میں بیشک بشری بی بی موجود ہوں لیکن بانی کی بہنوں کو بھی ہونا چاہئیے،
عید پر بھی لوگوں کو جیل میں ملاقات کی اجازت ہوتی ہے مگر ہمیں اجازت نہیں ہے ہم نے سب سے زیادہ فوج کی بات کی ہے، عمران خان نے کہا فوج اس ملک کے لیے لازم ہے میرے وجود سے بھی زیادہ۔

ان کا کہنا تھا کہ الزامات لگا کر ہمارے خلاف بیانیہ بنایا جاتا ہے، فارم 47 کی حکومت بیانیہ بنا کر عمران خان کو مائنس کرنا چاہتی ہے، ہمارے بچے بھی فوج میں ہیں فوج کی تعریف کون نہیں کرتا، عمران خان کو باہر نکالیں تو پوری قوم بھی فوج کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی، ریاست اور بانی کا وجود لازم و ملزوم ہے۔

Similar Posts