گیری کرسٹن کو پاکستان میں کوچنگ کے دوران کن مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا؟

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے ساتھ کام کے دوران انہیں بیرونی دباؤ اور غیر معمولی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک انٹرویو میں اپنے دورِ کوچنگ کے تجربات بیان کرتے ہوئے گیری کرسٹن نے کہا  کہ بیرونی مداخلت اور دباؤ کی وجہ سے مؤثر انداز میں منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کوچ کے لیے واضح سمت متعین کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب کسی کوچ کو ذمہ داری دی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے کیونکہ بار بار مداخلت سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل، جیسے تادیبی اقدامات، ٹیم کے ماحول کو خراب کرتے ہیں اور عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کوچ کو تبدیل کرنا آسان حل سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ طرزِ عمل طویل المدتی طور پر فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے ساتھ کام کرنا مجموعی طور پر ایک اچھا تجربہ رہا اور پاکستانی کھلاڑی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ اگرچہ زبان کا فرق ایک حد تک موجود تھا، مگر کرکٹ ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جو کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان رابطے کو آسان بنا دیتی ہے، جس سے میدان میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

Similar Posts