اسرائیلی میڈیا کے دعوے کے مطابق بات چیت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ ملاقات خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہو سکتی ہے۔
🚨An Israeli official told ne the mediating countries were trying to convene a meeting in Islamabad — with Ghalibaf and other officials representing Tehran, and Witkoff, Kushner and possibly Vice President Vance representing the U.S. – possibly later this week https://t.co/hPxezRUbKy
— Barak Ravid (@BarakRavid) March 23, 2026
رپورٹس کے مطابق ایران کی نمائندگی محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔
ایک امریکی صحافی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ترکی، پاکستان اور مصر پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مصر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں جبکہ بات چیت کا محور جنگ کے خاتمے اور دیگر متنازع امور کا حل بتایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امکان ہے کہ جلد کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔