دہشتگردوں کی سرپرستی اور انسانی حقوق کی پامالی ؛ افغان طالبان  رجیم کا سفاک چہرہ  بے نقاب

0 minutes, 0 seconds Read
بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی نے افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔

افغان طالبان رجیم  دہشت گردی کی حمایت اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے سبب دنیا بھر کے لیے ناقابل قبول ہو چکی ہے۔ طالبان رجیم  کے جابرانہ قوانین افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ  بن گئے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ان فوکس کے مطابق طالبان رجیم  کے سخت گیر نظام اور عالمی سطح پر تنہائی نے افغان ریاست کی قانونی حیثیت اور شہری حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا  ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق افغان طالبان کے القاعدہ اور فتنۃ الخوارج  جیسے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں اور یہ ان کے خلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہیں۔ افغان طالبان رجیم کا خودمختاری  کا دعویٰ محض ایک  ڈھونگ   ہے اور عالمی سطح پر  ایک ملک کے سوا کسی نے اسے باقاعدہ تسلیم  نہیں کیا ۔

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور پہچان نہ ہونے کی وجہ سے طالبان  رجیم افغانستان کی نمائندگی  کے لیے مکمل قانونی درجہ نہیں رکھتی ۔

ماہرین کے مطابق طالبان  رجیم کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہا اور  اقتصادی و انسانی بحران کا شکار ہے۔ افغان طالبان کی  القاعدہ اور  فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی)جیسے گروہوں کی پشت پناہی محض ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی رسک ہے۔

 

Similar Posts