وفاقی وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسیز کا مسودہ حکومت سے شیئر کردیا ہے اور اگلے چند روز میں تیسرے اقتصادی جائزہ پر اسٹاف سطع کے معاہدے کا اعلان متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کی طرف سے شیئر کردہ میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسیز(ایم ایف ایف پی) کے مسودے کا جائزہ لیا جارہا ہے اور توقع ہے مزید مشاورت کے بعد اتفاق رائے ہوجائے گا، جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ایم سی ایف پی پر دستخط کر دیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایم سی ایف پی پر دستخط کے بعد تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا شیڈول جاری ہوگا اور اجلاس میں پاکستان کے اقتصادی جائزہ کی منظوری کے ساتھ ہی پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دی جائے گی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو بڑھانے پر زور دیا ہے، جس کے باعث ہائی اوکٹین کے بعد پیٹرول، ڈیزل پر لیوی 5 روپے لیٹر بڑھانے کی تجویز ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب کی کٹوتی پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے اداروں کے سربراہان کے تقرر کا اختیار حکومت کو دینے پر اعتراض کیا ہے، مختلف اداروں کے سربراہان یا سی ای اوز کی تقرری کا اختیار بورڈز کے پاس ہے، آئی ایم ایف سے بجلی و گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر قابو پانے کا پلان بھی شیئر کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف علاقائی کشیدگی کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا بھی جائزہ لے رہا ہے، تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ اور مشکل مالیاتی حالات بھی زیر بحث ہیں اور رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف دینے کے لیے تجاویز پر بھی کام جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کی تجویز آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے، رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کو مراعات دینے کی تجویز ہے جبکہ سستے گھروں کی تعمیر کے لیے حکومت رعایتی اسکیم کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔