ایران میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے یعنی ’این پی ٹی‘ سے ممکنہ علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تہران میں حکومتی سطح پر اس معاملے پر فوری بنیادوں پر مشاورت جاری ہے اور پارلیمنٹ سمیت متعلقہ ادارے اس حساس فیصلے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اقدام کا مقصد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے بھیس میں امریکا اور اسرائیل کو ایران کی مزید جاسوسی سے روکنا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق حکومت کے اہم حلقے این پی ٹی سے نکلنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے تہران کے رکن اسمبلی مالک شریعتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ ایران کے جوہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس کے تین اہم نکات ہیں۔ ان میں این پی ٹی سے علیحدگی کا اعلان، 2014 کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بنائے گئے قوانین میں تبدیلی یا خاتمہ، اور ہم خیال ممالک کے ساتھ ایک نئے بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل شامل ہے تاکہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔
اس مجوزہ تعاون میں شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے گروپس کے ممالک شامل ہو سکتے ہیں، جن میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کا حق رکھتا ہے، تاہم مغربی ممالک، خاص طور پر امریکا، طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔