ایران کو قابو کرنے میں مسلسل ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے راہِ فرار اختیار کرنے کی فراق میں ہیں۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر ہی اپنی فوجی کارروائی کو محدود کرکے جلد ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ بنیادی فوجی مقاصد حاصل کرنے کے بعد ایران کے خلاف جاری آپریشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان مقاصد میں ایران کی بحریہ کو کمزور کرنا اور اس کے میزائل ذخیرے کو تباہ کرنا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلوانے کی کوشش کی گئی تو اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور جاری فوجی آپریشن کی چھ ہفتوں پر مشتمل ٹائم لائن متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی وجہ سے ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فوجی کارروائی کو ایک حد تک مکمل کرنے کے بعد اسے روک دیا جائے اور باقی معاملات سفارتی طریقے سے حل کیے جائیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی منصوبہ بندی یہ ہے کہ فوجی اہداف حاصل کرنے کے بعد ایران پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ اسے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ اگر یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو امریکا یورپی اور خلیجی ممالک کو اس عمل میں آگے لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو ایک ماہ ہو چکا ہے، اس دوران دونوں اطراف سے حملے کیے گئے ہیں۔
اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، تقریباً بند ہو چکی ہے، جس سے عالمی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
قبل ازیں، امریکا نے ایران کو تنازع حل کرنے کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جس میں جوہری پروگرام محدود کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے اور میزائل پروگرام کو کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ اس کے بدلے میں امریکا نے پابندیوں میں نرمی اور پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔
تاہم رپورٹس کے مطابق ایران نے اس منصوبے کو قبول نہیں کیا اور اپنی شرائط پیش کی ہیں۔