محکمہ زراعت پنجاب کے ابتدائی تخمینہ کے مطابق رواں برس صوبے میں2 کروڑ20 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال کی پیداوار کے تقریبا برابر ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کے لیے رواں برس غیر معمولی اقدامات کیے ہیں ۔ حکومت زمینداروں سے براہ راست گندم خریداری تو نہیں کررہی لیکن نجی شعبے سے منتخب اعلی معیار اور مضبوط مالی ساکھ کی ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے30 لاکھ ٹن گندم خریداری کا نظام تیار کرلیا گیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹریڈنگ کمپنیوں کو کسانوں سے مکمل نیک نیتی اور دیانت داری سے گندم خریداری کرنے کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعلی مریم نواز نے منظوری دے دی ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس موجود20 لاکھ ٹن گندم کے مساوی باردانہ منتخب ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو بلا معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
اگلے روز سے پنجاب میں گندم خریداری مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے،محکمہ خوراک نے 11 ٹریڈنگ کمپنیوں کی جانب سے گندم خریداری کے لیے جمع کروائی فنانشل بڈ کھول دی ہے جن میں سے کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی کو انتہائی بلند شرح مارک اپ کی پیشکش کی وجہ سے ڈس کوالیفائی کردیا گیا ہے ۔
حتمی منتخب نجی ٹریڈنگ کمپنیوں کو آج سے محکمہ خوراک کے سرکاری گوداموں کی الاٹمنٹ شروع کردی جائے گی اور آیندہ چند روز میںٹریڈنگ کمپنیاں الاٹ کردہ خریداری مراکز پر اپنا عملہ تعینات کریں گی۔
ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے غیر معمولی رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اس نظام کو راستے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، منزل کٹھن ہے مگر ہر نئے نظام کو پہلی مرتبہ خامیوں، تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس میں مستقبل کے لیے اصلاح کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈی جی فوڈ امجد حفیظ کا کہنا ہے کہ10منتخب ٹریڈنگ کمپنیوں میں گرین پاکستان انیشی ایٹو جیسا اہم ترین وفاقی ادارہ بھی شامل ہے جب کہ تین اہم ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی خریداری اسکیم میں حصہ لے رہی ہیں۔
محکمہ خوراک کے سرکاری خریداری مراکز پر گندم کاشتکاروں کی آن لائن رجسٹریشن کا آغاز آیندہ چند روز میں کردیا جائے گا۔ٹریڈنگ کمپنیاں براہ راست کسانوں سے گندم خریداری کریں گی،مڈل مین آڑھتی سے خریداری پر پابندی عائد ہو گی۔
کسانوں کو گندم فروخت کے لیے ٹریڈنگ کمپنیاں محکمہ خوراک سے ملنے والا باردانہ بلا معاوضہ فراہم کریں گی۔ خریداری مہم میں کسی قسم کی سفارش یا رشوت نہیں چلنے دی جائے گی اورحکومتی پالیسی کے تحت چھوٹے گندم کاشتکار کو خریداری مہم میں اولین ترجیح دی جائے گی۔
اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو مگر فی الوقت تو کسانوں میں بہت سے خدشات اور تحفظات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا منتخب کمپنی کسان کے کھیت میں سے واقعی 3500 روپے قیمت پر گندم خریدے گی ؟
کیونکہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ بعض ٹریڈنگ کمپنیوں نے آڑھتیوں کے ساتھ گندم فراہمی کے معاملات طے کرنا شروع کر دیے ہیں، اگر آڑھتی کسان سے سستے داموں گندم خرید کر کمپنی کو اپنے کمیشن سمیت فروخت کرے گا تو پھر حقیقی کسان کو3500 کی جگہ3 ہزار تا3200 روپے قیمت ہی مل پائے گی۔
منتخب کمپنیاں کس ضلع سے کتنی مقدار میں گندم خریدیں گی، کسانوں کی رجسٹریشن اگر چھوٹے کاشتکار کی بنیاد پر ہونا ہے تو اچھی بات مگر اگر بڑے کسان اکاموڈیٹ ہو ئے تو کیا بنے گا۔اس قسم کے بہت سے سوالات موجود ہیں جنھیں دور کرنے کے لیے حکومت کو آگاہی مہم فی الفور شروع کردینی چاہیے۔
حکومتی پالیسی کے تحت منتخب ایگریگیٹر(ٹریڈنگ کمپنی) کسانوں سے گندم خریداری کے لیے بینکوں سے جو قرض حاصل کرے گا اس کے مارک اپ کا70 فیصد حکومت ادا کرے گی جب کہ جو گندم خریدی جائے گی اس پر ستمبر2026 تک زیادہ سے زیادہ10 فیصد یعنی 3500 روپے میں خریدی گئی ہر ایک من گندم پر350 روپے بطور منافع حکومت ادا کرے گی ۔
ستمبر کے بعد حکومت ایگریگیٹر کی خرید کردہ گندم(جو باقی پڑی ہو) پر زیادہ سے زیادہ35 روپے فی من منافع ادا کرنے کی پابند ہوگی جب کہ کسانوں سے گندم خریداری کے لیے باردانہ بھی محکمہ خوراک فراہم کرے گا اور ٹریڈنگ کمپنیاں خریدی گئی گندم ی کی اسٹوریج کے لیے محکمہ خوراک کے گودام ہی استعمال کریں گی۔
ان فوائد کو دیکھ کر پہلا خیال یہی ذہن میں آتا ہے کہ اگر سب کچھ حکومت نے ہی برداشت کرنا ہے تو پھر بہتر ہوتا کہ ماضی کی طرح حکومت ہی کسانوں سے براہ راست گندم خرید لیتی لیکن حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ عالمی اداروں کی شرائط کے سبب براہ راست خریداری نہیں کر سکتی اور پنجاب میں آٹا روٹی کی قیمت کو بھی کنٹرول میں رکھنا لازم ہے تو پھر حکومتی نگرانی میں نجی شعبہ کی خریداری کا نظام ہی راستہ بنتا تھا جسے اپنایا گیا ہے۔
اس نظام کی خوبیاں جانچی جائیں تو ماضی میں محکمہ خوراک کی گندم خریداری میں کسانوں کا جس طرح معاشی استحصال کیا جاتا تھا، سرکاری اسٹاک میں چوری کی جاتی تھی، ملاوٹ کی جاتی تھی، پانی لگایا جاتا تھا اب ویسا نہیں ہوگا کیونکہ کوئی بھی ایگریگیٹر ایسا رسک نہیں لے گا جس سے اس کی حکومت کی جانب واجب الادا رقم خطرے میں پڑ جائے۔
ایگریگیٹر کسانوں سے کمزور گندم بھی نہیں خریدے گا جو پہلے فوڈ اسٹاف خرید لیتا تھا۔ حکومتی اسکیم کی ممکنہ خامیوں کا ذکر کیا جائے تو نجی خریداروں کے لیے اتنی بڑی مقدار میں یکمشت خریداری آپریشنل چیلنج کے طور پر بہت مشکل ہوگی، یہ کمپنیاں اور فلورملز ماضی میں گندم خرید کر اسٹاک کرتی رہی ہیں مگر اتنی بڑی مقدار ان میں سے کسی نے نہ خریدی اور نہ ہی سنبھالی ہے۔
ایگریگیٹرز کو غیر معمولی مالی رعایات سے حکومت پر معاشی دباو موجود رہے گا۔ سب سے بڑا چلنج یہ ہوگا کہ کسانوں کی خواہش ہوگی کہ جس طرح ماضی میں فوڈ اور پاسکو ان سے گندم خریدتا تھا یعنی ہر قسم کی گندم بک جاتی تھی ایک مخصوص نذرانہ دیکر اب وہ ممکن نہیں ہوگا جس سے ممکن ہے کہ بڑے زمینداروں کی جانب سے نئے نظام پر تنقید بھی کی جائے اوراس تنقید کو سرکاری اہلکاروں کی حمایت بھی حاصل ہو۔
شنید ہے کہ حکومت 3500 روپے میں خریدی گندم ریلیز سیزن میں فعال فلورملز کو3500 روپے فی من قیمت پر ہی فروخت کرے گا یعنی تمام انسیڈنٹل چارجز حکومت خود برداشت کرے گی جس کے ذریعے سادہ روٹی کی نئی قیمت15 روپے اور بیس کلو آٹا تھیلا قیمت 2180 روپے کے لگ بھگ مستحکم رکھنا آسان ہوجائے گا۔
وزیر اعلی مریم نواز گندم کاشتکاروں اور شہری صارفین کو یکساں ریلیف اور معاشی تحفظ دینے کے لیے تمام اقدامات کر رہی ہیں، سیکریٹری فوڈ ڈاکٹر کرن خورشید اور ڈی جی فوڈ امجد حفیظ اس مشکل مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کر رہے ہیں،ڈویژنل سطح پر کمشنرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیاں شکایات کا بروقت ازالہ کریں گی اس لیے امید رکھنا ہوگی کہ گندم کاشتکار اس بار خسارے کا شکار نہیں ہوں گے۔