الجزیرہ کو انٹرویو میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا سے رابطوں کو یہ مطلب نہیں ہے کہ تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف کے پیغامات پہلے کی طرح موصول ہوئے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے ہم مذاکرات کر رہے ہیں، ایران میں کسی بھی فریق سے مذاکرات کے دعوے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام پیغامات وزارت خارجہ کے ذریعے دیے یا وصول کیے جاتے ہیں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطے ہیں، تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ ان پر تحفظات ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے بھیجے گئے 15 نکاتی تجاویز پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے، نہ ہی کسی قسم تجاویز یا شرائط رکھی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا ہونا چاہیے، صرف ان جہازوں کے لیے آبنائے بند ہے جو ہمارے ساتھ جنگ کر رہے ہیں، جو جنگ کے دوران معمولی بات ہے، ہم اپنے دشمنوں کو تجارت کے لیے اپنی سمندر حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی وزیرخارجہ کی اکثر باتیں کوئی نیا مؤقف نہیں ہے لیکن اہم خبر یہ ہے کہ اسٹیو ویٹکوف سے رابطہ ہوا ہے اور نیا معلومات یہی ہیں کہ ویٹکوف کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں اور سیکیورٹی تبادلہ خیال بھی ہو رہا ہے۔
قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایران کو امریکا کی جانب سے 15 نکاتی منصوبہ موصول ہوگیا ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔
امریکی منصوبے میں ایران سے جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رہنے اور اپنے میزائلوں کی صلاحیت کو رینج اور تعداد دونوں میں کمی لانے کا وعدہ بھی شامل ہے لیکن ایرانی وزیرخارجہ تاحال اس مؤقف پر قائم ہیں کہ ایران خطے میں جنگ بندی کے بجائے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے تجویز کو تسلیم کرے گا۔