امریکا، اسرائیل مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت دیں تو جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں، ایرانی صدر

0 minutes, 0 seconds Read
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں اگر ان کی طرف سے مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں وہ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر انہیں مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں ان پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا تو وہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو معمول پر لانے کا واحد حل یہ ہے کہ حملہ آور اپنی جارحانہ سرگرمیاں بند کریں، ہم نے کبھی کسی مرحلے پر کشیدگی یا جنگ کا آغاز نہیں کیا اور اگر مطلوبہ شرائط پوری ہو جائیں، خاص طور پر مستقبل میں حملے کی روک تھام کے لیے ضروری ضمانتیں، تو ہمارے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کا عزم موجود ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور کبھی بھی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی، تاہم ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔

پیزشکیان نے کہا کہ ان ممالک نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری نہیں کی کہ وہ اپنے علاقے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

انہوں نے یورپی یونین پر بھی تنقید کی کہ وہ جاری امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے اور کہا کہ یہ جارحیت قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ان تمام اصولوں اور قوانین پر بھی حملہ ہے جن کے بارے میں یورپی یونین عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف تباہ کن رویہ اختیار کرنے کے بجائے یورپی یونین کو اپنی پالیسیاں اور مؤقف بین الاقوامی قانون کے مطابق اور دیگر فریقین کے ساتھ تعمیری اور پیشہ ورانہ تعامل کے اصولوں کے مطابق ترتیب دینے چاہئیں۔

 

Similar Posts