جنگ،معیشت اور پاکستان کا کردار

0 minutes, 0 seconds Read
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے.

لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے ’’قیام‘‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنھیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ پہنچیں گے جہاں دونوں رہنما پاک چین دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔

چین نے ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے، کیونکہ پاکستان نتیجہ خیز بات چیت کے حوالے سے ہر ممکنہ سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس نہج پر کھڑا ہے جہاں طاقت، مفادات اور بیانیے ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے توازن کو بھی بری طرح متاثر کریں گے.

حالیہ کشیدگی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ تباہ کن کارروائیوں کی دھمکیاں شامل ہیں، اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں ایک بار پھر تصادم کے راستے پر گامزن ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، اگرچہ بظاہر سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ’’زیادہ معقول حکومت‘‘کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، بظاہر ایک مثبت پیش رفت معلوم ہوتی ہے، لیکن اسی بیان میں یہ دھمکی بھی شامل ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔

اس میں خاص طور پر خارگ جزیرہ، تیل کے کنویں، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کا ذکر کیا گیا، جو ایران کی معیشت اور عوامی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک مرکزی حب ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، اگر اس جزیرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نہ صرف ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی تیل کی رسد بھی متاثر ہوگی۔

ڈی سیلینیشن پلانٹس کا ذکر خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ یہ پلانٹس سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیںاور ان پر حملہ کسی بھی ملک میں انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

اس طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنانا صرف عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک وسیع تر انسانی بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

ایران کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، اور اس کی فوج نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی توانائی کے تمام انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی۔

اس تناظر میں خلیجی ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی اڈے موجود ہیں، براہ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ جنگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

اس کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جو دنیا کے تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق چین کی بڑی شپنگ کمپنی COSCO کے دو جہاز اس آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، جو ایک حد تک مثبت اشارہ ہے کہ ابھی تک یہ راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

تاہم اس کے باوجود خطرات بدستور موجود ہیں، کیونکہ کسی بھی وقت اس راستے کو بند کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کا بیان کہ اسرائیل اس جنگ میں اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر چکا ہے، ایک ایسے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیل کی عسکری برتری پر مبنی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ہزاروں ارکان کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور ایران کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے قریب ہیں۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں، اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ ایک غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

یہاں ایک اہم پہلو ایران کے جوہری پروگرام کا بھی ہے، جسے اقوام متحدہ اور اسرائیل ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹس اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کرتیں۔

یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس تنازع میں معلومات اور بیانیے بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

عالمی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیتی ہے۔عالمی طاقتوں میں چین کا کردار خاص طور پر اہم ہے، جو اس تنازع میں ایک متوازن اور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

چین نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ امن کے قیام کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ چین کی معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی درآمدات پر ہے، اس لیے وہ اس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔

پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحق ڈارکا چین کا دورہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں نہ صرف پاک چین تعلقات بلکہ ایران امریکا تنازع پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

ایران کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں پاکستان سے ضمانت طلب کرنا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک لمحہ ہے، جہاں اسے نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور اگر اس تنازع کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔

توانائی کی سیاست اس پورے تنازع کا ایک مرکزی عنصر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ رکھتا ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو، جب کہ ایران اس کو ایک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، جس کا اثر دنیا بھر کے عوام پر پڑے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے مزید متاثر ہوں گے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے، اگر جنگ کا راستہ اختیار کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے، لیکن اگر سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی تو ایک بہتر اور مستحکم دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان، چین اور دیگر ذمے دار ممالک کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ ایک ممکنہ تباہی کو روکا جا سکے اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

Similar Posts