انڈونیشیا کے شمالی بحیرہ ملوکا میں جمعرات کی صبح 7.6 شدت کے انتہائی طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیلا دیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد جاری کی گئی سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی جو بعد میں واپس لے لی گئی، تاہم حکام نے اب بھی شہریوں کو مسلسل چوکنا رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات (بی ایم کے جی) کے مطابق، زلزلے کے بعد پانچ مختلف مقامات پر سونامی کی لہریں ریکارڈ کی گئیں، جن میں سب سے بلند لہر شمالی سولاویسی میں تقریباً ڈھائی فٹ بلند تھی۔
زلزلے کا مرکز فلپائنی ساحل سے 580 کلومیٹر جنوب میں 35 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ تیوکو فیصل فتحانی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 3 میٹر تک بلند لہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد سونامی کی وارننگ منسوخ کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، زلزلے کے باعث جانی نقصان شمالی سولاویسی کے شہر مناڈو میں ہوا، جہاں اسپورٹس اتھارٹی کی ایک عمارت کا کچھ حصہ گرنے سے ملبے تلے دب کر ایک شخص جان بحق ہو گیا۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی گھروں اور ایک چرچ کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے 10 سے 20 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، جس سے لوگ بدحواسی میں گھروں سے باہر نکل آئے اور کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے رپورٹ کیا ہے کہ زلزلے کے بعد اب تک تقریباً 50 آفٹر شاکس محسوس کیے جا چکے ہیں، جن میں سب سے طاقتور جھٹکے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ بین الاقوامی مانیٹرنگ ایجنسیوں نے مزید جانی و مالی نقصان کا امکان کم ظاہر کیا ہے، لیکن مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو متاثرہ اور کمزور عمارتوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے۔
انڈونیشیا کے علاوہ فلپائن، ملائیشیا اور جاپان نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ فلپائنی حکام نے اپنے ساحلوں کے لیے کسی بڑے خطرے کی تردید کی ہے، جبکہ جاپانی محکمہ موسمیات نے سمندر میں لہروں کی معمولی تبدیلی تقریباً 0.2 میٹر تک کی پیشگوئی کی ہے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا بحر الکاہل کے ”رنگ آف فائر“ پر واقع ہے، جو زمین کا سب سے زیادہ زلزلہ زدہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔