عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے نے ایک انتہائی سنگین سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے جس میں وہاں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر عراق چھوڑ دیں کیونکہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران مرکزی بغداد میں بڑے پیمانے پر مسلح ملیشیا کے حملوں کا شدید خطرہ ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایران نواز عسکری گروہ امریکی شہریوں، کاروباری مراکز، یونیورسٹیوں، سفارتی عمارتوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے سے وابستہ تنصیبات اور ہوٹلوں پر بھی حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسلح گروہ نہ صرف امریکی اہداف بلکہ عراقی اداروں اور عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں جبکہ امریکیوں کے اغوا کا خطرہ بھی موجود ہے۔
الرٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ عراقی حکومت اپنی سرزمین پر ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور حملہ آور عراقی سرکاری ملازمین کے روپ میں بھی ہو سکتے ہیں یا ان کے پاس سرکاری شناختی کارڈز ہو سکتے ہیں۔
امریکی مشن نے اپنے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ سیکیورٹی خطرات کے باعث بغداد میں سفارت خانے یا اربیل میں قونصل خانے آنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مدد کے لیے ای میل کے ذریعے رابطہ کریں۔
عراق کے لیے جاری کردہ اس ٹریول ایڈوائزری کو ’لیول 4‘ یعنی انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی صورت عراق کا سفر نہ کیا جائے اور جو لوگ وہاں موجود ہیں وہ اپنی جان کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں۔
سفارت خانے کا کہنا ہے کہ جو امریکی شہری ان حالات میں بھی عراق میں قیام کا فیصلہ کرتے ہیں وہ اپنی زندگیوں کو بہت بڑے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔