امریکی سیاسیات کے ماہر اور بین القوامی تعلقات کے اسکالر جان میئر شائمر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی بنیامین نیتن یاہو کو نیورمبرگ طرز کے ٹرائلز میں پیش کیا جائے تو انہیں جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔
میئر شا ئمر نے ایک سوشل میڈیا پوڈ کاسٹ میں کہا، ’’اگر نیورمبرگ ٹرائلز ہوتے اور اسرائیلی و امریکی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کیا جاتا، تو صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے کئی مشیران کو پھانسی دی جاتی۔‘‘
انہوں نے اس بات کا حوالہ دیا کہ نیورمبرگ ٹرائلز میں سابقہ نازی جرمن رہنماؤں کو نسل کشی اور جارحانہ جنگ کے الزامات پر سزائیں دی گئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بلاوجہ دو حملے کیے، جن میں جون 2025 کا حملہ اور موجودہ جارحانہ کارروائی شامل ہے، اور اس میں ایران کے کسی فوجی اقدام کو جواز نہیں بنایا گیا۔
میئر شا ئمر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے غیر قانونی طریقے سے رہنماؤں کو قتل کیا اور غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ بھی لڑی۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت میں اعلیٰ ایرانی افسران اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان دشمنانہ کارروائیوں میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، شہری بنیادی ڈھانچے، اسکولز، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے۔ ایران کی مسلح افواج نے اس کے جواب میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے تقریبا روزانہ میزائل اور ڈرون آپریشنز کیے۔