روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو فون پر بات چیت کی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحران، عالمی توانائی کی صورت حال اور اوپیک پلس کے فریم ورک میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری اور سیاسی کشیدگی، شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
کریملن کے مطابق صدرپیوٹن اور محمد بن سلمان نے کہا کہ خطے میں جاری بحران نے توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل پر منفی اثرات ڈالے ہیں، جو عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نے اوپیک پلس (اوپیک اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کا گروپ) کے فریم ورک میں روس اور سعودی عرب کے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ عالمی تیل کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب یوکرین، جو 2022 سے روس کے حملوں کا سامنا کر رہا ہے، نے سعودی عرب کے ساتھ فضائی دفاع کے حوالے سے معاہدہ کیا۔ اس دوران خلیجی ممالک ایران کے ڈرون حملوں سے متاثر ہو رہے ہیں اور یوکرین نے ان ممالک کو ڈرون روکنے کی اپنی مہارت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
یوکرین نے کہا ہے کہ وہ سستے اور مؤثر ڈرون انٹرسیپٹرز کے بدلے مہنگے ایئر ڈیفنس میزائل فراہم کرنے کی پیشکش کر سکتا ہے، تاکہ خلیج کے ممالک ایرانی ڈرون حملوں کا مؤثر جواب دے سکیں۔
کریملن کے بیان کے مطابق پیوٹن اور محمد بن سلمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں پیدا ہونے والے مسائل عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کا فوری حل تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔
تیلی فونک رابطے کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے اور خطے میں سفارتی اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔