ان خیالات کا اظہار ماہرین معاشیات اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے ’’مشرق وسطیٰ جنگ اور معاشی چیلنجز ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا،فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیے۔
سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں انجم نثار نے کہا کہ ایران پر مذاکرات کے دوران امریکا نے جنگ مسلط کی جس سے پوری دنیا کی معیشت کو دھچکا لگا،ایران نے مجبوراً جوابی حملے کیے، عرب و دیگر ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس سے دنیا میں کرائسز پیدا ہوگیا، شکر ہے کہ ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات کی قلت نہیں،بھارت میں لائنیں لگی ہیں،تیل کی قیمت میں اضافے کا بوجھ ہر شعبے اور عوام پر پڑے گا۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ امریکہ نے شمالی کوریا، ویتنام، عراق اور افغانستان میں مار کھائی، اب اس نے ایران پر حملہ کر دیا ، اسرائیلی کہہ رہے ہیں کہ انہیں اس جنگ کا معلوم تھا، انہوں نے شیئرز خرید لیے اور اب فائدہ حاصل کر رہے ہیں،اب اس جنگ اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، پاکستان، چین اور بھارت کی تیل سپلائی کو بند کرنا بھی اس جنگ کا مقصد تھا، امریکہ کے پاس تیل بھی ہے، افرادی قوت بھی اور پیسہ بھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف بھی کہتا ہے کہ فسکل مینجمنٹ کریں، اس وقت ضروری ہے کہ نظام میں شفافیت لائیں ، کرپٹ عناصر کا قلع قمع کریں اور تھنک ٹینک بنائیں،شارٹ ٹرم منصوبہ بندی یہ ہونی چاہیے کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں، بارڈر پر ایرانی آئل سمگل ہو رہا، اس پر آنکھیں بند کرلیں، افغانستان سے دوستی کریں،آئی پی پیز سے چھٹکارہ حاصل کریں،سابق نائب صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز محمد ندیم قریشی نے کہا کہ 78 برسوں سے ہم کرائسس میں ہیں ۔