غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی میڈیا نے بتایا کہ روس کی سرکاری جوہری کمپنی روسٹم نے اپنے عملے کے مزید 198 ارکان کو ایران کے بوشہرجوہری پلانٹ سے بحفاظت نکال لیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روسی کمپنی روسٹم نے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد اپنے عملے کو پلانٹ سے واپس بلانا شروع کردیا تھا۔
قبل ازیں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا تھا کہ پلانٹ میں گرنے والے ملبے سے ایک رکن ہلاک ہوگیا تھا اور پلانٹ کی عمارت کا ایک حصہ بھی دھماکے کی شدت سے متاثر ہوگیا تھا تاہم روسی عملے کی واپسی کا شیڈول اس سے پہلے ہی طے کیا گیا تھا۔
روسی خبرایجنسی نے بتایا کہ روسٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف نے بتایا کہ پلانٹ کے قریب پیش آنے والے واقعات ممکنہ طور پر بدترین صورت حال کا اشارہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پلانٹ میں ہلاک ہونے والا عملے کا رکن ایرانی شہری تھا۔
روسٹم کے سربراہ نے اس حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ صدر ویلادیمیر پوٹن کو پلانٹ کے اطراف کی صورت حال سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروا نے کہا کہ روس نے ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر امریکا اور اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور جوہری تنصیبات پر اس طرح کے حملے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس شیطانی عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے، بوشہر جوہری پلانٹ سمیت ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر روک دینے چاہئیں۔
واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بوشہر جوہری پلانٹ پر اسرائیل اور امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے اثرات سے ہونے والے نقصانات کے خدشات سے آگاہ کردیا ہے۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ یوکرین میں زیپوریزہزیا جوہری پاور پلانٹ کے قریب ہوئی اشتعال انگیزی کے بارے میں مغربی احتجاج یاد کریں، اسرائیل اور امریکا نے اس وقت بوشہر پلانٹ پر 4 مرتبہ حملے کیے ہیں اور تابکاری اثرات ایران نہیں بلکہ خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں پر پڑیں گے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارے پیٹروکیملز پر حملے حقیقی مقاصد آشکار کر رہے ہیں۔