یہ ترقی ہمیں سہولت تو دیتی ہے مگر سکون نہیں دیتی۔ ہم ایک بٹن دباکر دنیا کے کسی بھی کونے میں بات کر سکتے ہیں مگر اپنے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کی فرصت نہیں رکھتے۔ ہم ہزاروں میل دور کے لوگوں کے دکھ سن لیتے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی نہیں سن پاتے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے مگر اس گاؤں میں رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ کیوں ایک ماں اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے اس کے موبائل کا انتظار کرتی ہے؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اس کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھ کر اس کی زندگی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ترقی دراصل ایک فریب ہے، ایسا فریب جس میں روشنی زیادہ ہے اور بصیرت کم۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ اب انسان کی خوشی نہیں بلکہ اس کی پیداوار اس کی رفتار اور اس کی کارکردگی بن چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب ترقی کا مطلب یہ تھا کہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں، اس کے دکھ کم ہوں اس کے خواب پورے ہوں۔ ہمیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف تیز رفتاری ہی کامیابی نہیں بلکہ ٹھہراؤ بھی ایک نعمت ہے، اگر ہم ہر وقت دوڑتے رہیں گے تو شاید ہم اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو محسوس ہی نہ کر پائیں۔ ہمیں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، بزرگوں کی باتیں سننی ہوں گی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا ہوگا یہی وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو انسان کو مکمل بناتی ہیں اور یہی اصل ترقی کی بنیاد ہے، مگر اب ترقی کا مطلب یہ رہ گیا ہے کہ مشینیں زیادہ تیز ہو جائیں منافع زیادہ بڑھ جائے اور وقت کو اس حد تک نچوڑ لیا جائے کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ جائے۔
ہماری دنیا میں اب سب کچھ ڈیٹا ہے انسان بھی، اس کے جذبات بھی، اس کے خواب بھی۔ بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے احساسات کو بھی گراف اور چارٹس میں بدل دیتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ہماری بہتری کے لیے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کے تماشائی بنتے جا رہے ہیں۔اب اسی مصنوعی ذہانت نے ایک اور خوفناک راستہ بھی اختیار کر لیا ہے، جنگوں کا راستہ۔ کبھی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں جہاں سپاہی ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے جہاں انسانی آنکھوں میں خوف اور ہمت دونوں نظر آتے تھے، مگر آج جنگیں اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں، بٹن دبانے والے ہاتھ دور بیٹھے ہوتے ہیں اور مرنے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ڈرونز خودکار ہتھیار اوراسمارٹ میزائل یہ سب اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ فیصلے انسان کم اور الگورتھم زیادہ کر رہے ہیں۔ ایک مشین طے کرتی ہے کہ کون ہدف ہے اور کون نہیں۔ مگر کیا ایک مشین انسان کی جان کی قیمت سمجھ سکتی ہے؟ کیا وہ یہ جان سکتی ہے کہ جس گھر کو وہ نشانہ بنا رہی ہے وہاں ایک ماں اپنے بچے کو کہانی سنا رہی ہے، اس نے اپنے بچے کے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ مشین نہیں جان سکتی کہ اولاد کو کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں چاہے وہ غزہ ہو یا یوکرین جنگوں کا چہرہ بدل چکا ہے۔ اب یہ صرف بارود اور گولیوں کی جنگ نہیں رہی بلکہ ڈیٹا نگرانی اور مصنوعی ذہانت کی جنگ بن چکی ہے۔ چہرے پہچاننے والے نظام نگرانی کے کیمرے اور ڈیجیٹل نقشے یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان ہر وقت ایک ٹارگٹ بن سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی جنگوں میں اہداف کو آسان بناتی ہے اور اس سے غلطی کی گنجائش کم سے کم ہو جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب قتل کا عمل آسان ہو جائے جب فیصلہ کرنے والا میدان میں موجود نہ ہو تو جنگ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاصلے انسان کے ضمیر کو کمزور کر دیتے ہیں۔یہ ترقی ہمیں تیز تو بنا رہی ہے مگر گہرا نہیں بنا رہی۔ ہم معلومات کے سمندر میں تیر رہے ہیں مگر حکمت کے ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں مگر خود کو نہیں جانتے۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر ایک ایسا جال بُن لیا ہے جس میں ہم خود ہی پھنس گئے ہیں۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے مشینیں بنائیں اور اب وہی مشینیں ہمیں اپنی رفتار پر چلنے پر مجبور کر رہی ہیں حتیٰ کہ جنگ جیسے فیصلے بھی اب ہمارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔مگر کیا اس کا کوئی متبادل نہیں؟ کیا ہم اس دوڑ کو تھام نہیں سکتے ،کیا ہم ترقی کی تعریف کو بدل نہیں سکتے۔ شاید ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کا اصل مقصد کیا ہے۔ کیا یہ صرف زیادہ پیداوار زیادہ منافع اور زیادہ رفتار ہے یا یہ ایک ایسا سماج ہے جہاں ہر انسان کو عزت ملے جہاں ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہو جہاں ہر مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ترقی انسان کو انسان سے دور کر دے، اگر یہ اسے اس کی جڑوں سے کاٹ دے، اگر یہ اسے ایک عدد ایک ڈیٹا پوائنٹ یا ایک ٹارگٹ بنا دے تو ایسی ترقی دراصل تنزلی ہے نہ کہ عروج۔ آج ہمیں مشینوں سے نہیں اپنے دل سے سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کیا کھویا ہے نہ کہ صرف یہ کہ ہم نے کیا پایا ہے، کیونکہ آخر میں، ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ انسان کتنا انسان رہا اور اگر اس تمام ترقی کے باوجود انسان ہی کھو جائے تو پھر یہ سارا سفر ساری محنت ساری چمک سب کچھ ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔