یہ فیصلہ پہلے ہونا چاہیے تھا

0 minutes, 0 seconds Read
ہماری تمام حکومتیں آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر خوش ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ قوم کو قرض ملنے کی مبارک باد دیتے ہیں، جیسے حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے پاؤں پڑ کر اور اس کی ہر شرط مان کر بڑا تیر مارا ہو یا بہترین کارکردگی دکھائی ہو جب کہ قرضوں پر مزید قرض لینا باعث ندامت عمل ہوتا ہے مگر قرضے لینے والے موجودہ اور ماضی کے حکمران اعزاز سمجھتے ہیں کہ چلو انھیں موج کرنے، وی وی آئی پی سہولیات لینے، کمیشن کے حصول، اپنوں کو نوازنے اور سرکاری مراعات کے حصول کا مزید موقع ملے گا، مگر انھیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ مزید قرض مانگنا ہی بے عزتی ہوتی ہے اور ملک و قوم مزید مقروض ہوجاتے ہیں۔

قرضے مانگنے والے حکمران قیمتی سوٹ پہن کر جاتے تو ایسے ہیں جیسے وہ کوئی معرکہ سر کرنے جارہے ہوں حالاں کہ یہ ان کے لیے پریشانی کا مقام ہونا چاہیے مگر انھیں اپنے اقتدار کی وجہ سے کوئی شرمندگی محسوس ہی نہیں ہوتی اور قرض دینے والے مسلم یا دوست ممالک اس لیے قرض دے دیتے ہیں کہ انھیں یہ قرضہ بمع سود واپس ملے گا اور قرضہ لینے والے ملک کے حکمران ان کے احسان مند رہیں گے اور ان کی ہر بات ماننے پر مجبور ہوں گے ۔

 دوست ممالک ایسی شرائط عائد نہیں کرتے، جیسی آئی ایم ایف کرتا ہے بلکہ اپنے مفاد کے لیے مزید قرض دے دیتے ہیں کہ مقروض ملک ان سے دبا رہے گا۔ قرض دینا مسلم ممالک نے بھی کاروبار بنا رکھا ہے جس پر انھیں سود بھی ملتا ہے اور مقروض ملک ان کی باتیں ماننے سے انکار کی جرات نہیں کرے گا۔

 عام آدمی اگر دوست یا عزیز کے پاس کسی مجبوری میں قرض مانگنے جاتا ہے تو مفلوک حالت میں جاتا ہے تاکہ اس کی حالت اور بے بسی دیکھ کر قرض دینے والے کو رحم آجائے اور وہ انکار نہ کرے ۔ عام آدمی اگر مقروض ہوجائے تو کوشش کرتا ہے کہ اسے اسی کے پاس نہ جانا پڑے کیونکہ وہ مزید قرض دینے کی بجائے پہلا قرض نہ واپس مانگ لے، اس لیے وہ کسی اور کے پاس جانے کو ترجیح دیتا ہے مگر قرضے مانگنے کے عادی ہمارے حکمران قیمتی سوٹوں میں اس طرح بن ٹھن کر جاتے ہیں جیسے وہ قرض مانگنے نہیں لوٹانے آئے ہوں۔ قرض دینے والا اپنے قومی لباس اور پیروں میں چپل پہنے ہوئے ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمران قرض لینا، اس لیے برا نہیں سمجھتے کہ یہ قرض انھوں نے نہیں بلکہ قوم نے واپس کرنا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لیے قرض نہیں لے رہے بلکہ قرض لے کر ملک و قوم پر احسان کررہے ہیں۔

ہمارے تمام حکمران مجموعی طور پر ملک و قوم کو 81 ہزار ارب روپے کا مقروض کرچکے ہیں اور ہر پاکستانی تقریباً سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے اور یہ قرض کسی شہری نے نہیں لیا بلکہ ان کی تو آنے والی نسل بھی مقروض پیدا ہورہی ہے بلکہ ہر حکمران کی اولادیں ملک سے باہر بھی اربوں روپے کی جائیدادوں کی مالک ہیں، ان کے اثاثے بھی باہر ہیں اور ملک میں بھی وہ عیش و عشرت کی زندگی اپنے بڑوں کی طرح گزار رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بڑے لوگ اپنے کاروبار کے لیے اکثر واپس نہ کرنے کی نیت سے بینکوں سے قرض لیتے ہیں اور اثر و رسوخ استعمال کرکے لیے گئے قرضے معاف کرالیتے ہیں جب کہ ان کا ملک قرض پرقرض لے کر اس قدر مقروض ہوچکا ہے کہ سزا عوام بھگت رہے ہیں جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کا غریب آدمی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے کرتے مرجائے گا جب کہ متوسط طبقہ بھی غربت کی سطح سے نیچے جاچکا ہے۔

سینیٹ میں ایک سینیٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قرضے لینا بس کردے کیونکہ ملک و قوم بہت زیادہ مقروض ہوچکے ہیں اور مزید قرض لینا بند کردیا جائے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ قرضے لینے کا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں آئی ایم ایف سے قرض لینا بند کردیا گیا تھا۔حکومت اب امارات کا قرضہ بمع سود واپس کرنے جا رہی ہے جو پہلے ہی ادا ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ 32 سال بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اب حکومت کو مزید قرضے لینے کی بجائے حکومتی اخراجات کم کرکے کسی بھی طرح باقی قرضے واپس کرنے پر توجہ دے، اسی میں عزت ہے ۔

Similar Posts