ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن پر حملہ: رائٹرز

0 minutes, 0 seconds Read

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سعودی عرب کی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا ہے جو خام تیل برآمد کرنے کا واحد راستہ بھی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل کے ہارٹ لینڈ سے لے کر ریڈ سی کے بندرگاہ ینبو تک روزانہ تقریباً 7 ملین بیرل تیل منتقل کر رہی تھی۔

سعودی عرب کی اس اہم پائپ لائن کا مقصد تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث وہاں پھنسے ہوئے تیل اور گیس کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔

رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حملے میں سعودی عرب کی تیل پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ ملک کی دیگر اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پائپ لائن سے تیل کے بہاؤ پر اثر پڑنے کا امکان ہے اور نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو ماہرین کے مطابق دنیا کے توانائی بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ آرامکو کی داخلی استعمال کے لیے روزانہ تقریباً 2 ملین بیرل تیل استعمال ہوتا ہے جس کے بعد برآمد کے لیے تقریباً 5 ملین بیرل بچتے ہیں۔

23 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتے میں ینبو سے تیل کی لوڈنگ کی مکمل صلاحیت یعنی 4.6 ملین بیرل روزانہ رہی حالانکہ 19 مارچ کو ہدف بننے والے حملے کے باوجود یہ عمل جاری رہا۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورز (IRGC) نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ اس نے خطے میں متعدد اہداف کو میزائل اور ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا جن میں امریکی کمپنیوں کی تیل کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

Similar Posts