کرکٹ کی دنیا میں بابر اعظم اور ویرات کوہلی کا موازنہ کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ پریس کانفرنس میں یہ تقابل ایک نازک اور تلخ رخ اختیار کر گیا۔
پاکستان سپر لیگ کے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم اس وقت برہم ہو گئے جب ان کی بیٹنگ اپروچ اور میچ فنش کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا گیا۔
حیدرآباد کنگز مین کے خلاف میچ میں زلمی کو 146 رنز کا ہدف ملا۔ بابر نے 37 گیندوں پر 43 رنز بنا کر اچھی بنیاد رکھی، تاہم وہ اننگز کو اختتام تک نہ لے جا سکے۔
ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم دباؤ میں آ گئی، لیکن زلمی نے آخری گیند پر کامیابی حاصل کر لی۔
پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے میچ فنشر کے طور پر بابر کا موازنہ ویرات کوہلی سے کرتے ہوئے سوال کیا، جس پر بابراعظم ناراض نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے موازنوں کو ختم کیا جانا چاہیے اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ میچز فنش نہیں کرتے۔ انہوں نے کئی میچ فنش کیے ہیں۔
بابر اعظم اگرچہ پاکستان کے نمایاں بلے باز ہیں، تاہم ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ان کی اسٹرائیک ریٹ اور فِنشنگ صلاحیت اکثر تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔
اس سیزن میں وہ دو میچز میں 82 رنز بنا چکے ہیں لیکن باؤنڈریز کے معاملے میں وہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ انہوں نے صرف 10 چوکے اور ایک چھکا لگایا، جسے جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے معیار سے کچھ کم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بابر پر اسٹرائیک ریٹ بہتر بنانے اور میچ کے آخری لمحات تک کریز پر رہنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جو ان کے لیے آئندہ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔