معروف صحافی نے پاکستان آئیڈل کے بڑے فراڈ کا انکشاف کردیا

0 minutes, 0 seconds Read
معروف صحافی نعیم حنیف نے پاکستان آئیڈل کے بڑے فراڈ کا انکشاف کردیا۔ 

پاکستان آئیڈل دراصل امریکی شو ’امریکن آئیڈل‘ کا ایک پاکستانی ورژن تھا جو بھارت میں بھی انڈین آئیڈل کے نام سے بہت مشہور ہے جہاں اس کے اب تک ایک درجن سے زائد سیزن ہوچکے ہیں۔ 

پاکستان آئیڈل کا کا پہلا سیزن تقریباً ایک دہائی قبل نشر ہوا تھا اور پھر اسے ایک دہائی بعد بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع کیا گیا۔

بڑے ناموں پر مشتمل ججز پینل اور بڑے چینلز پر نشریات کے باعث یہ ایک کامیاب منصوبہ نظر آ رہا تھا، لیکن اب اس شو کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اگرچہ ناظرین کو بتایا گیا کہ پاکستان آئیڈل جنگ اور معاشی مسائل کی وجہ سے نشر نہیں ہو رہا، لیکن اب اصل حقیقت سامنے آ رہی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے گلوکار راحت فتح علی خان، بلال مقصود، اداکار وگلوکار فواد خان اور گلوکارہ زیب بنگش جیسے ججز کی موجودگی میں اچانک معطلی مشکوک لگ رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اسی دوران فوٹوگرافر احسن قریشی نے ادائیگی نہ ہونے پر شو کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔

صحافی نعیم حنیف نے ایک پروگرام کے دوران ’پاکستان آئیڈل‘ کی حقیقت بے نقاب کر دی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان آئیڈل نہیں بلکہ ’فراڈ آئیڈل‘ ہے، شو کے تمام وینڈرز، گرافکس سے لے کر لائٹس تک، کسی کو بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ معروف ججز اور فنکاروں، جن میں راحت فتح علی خان اور فواد خان شامل ہیں، ان کے تقریباً 50 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

صحافی نے دعویٰ کیا کہ سب کو خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور شو بنانے والی کمپنی الگ الگ طریقوں سے ان سے رابطہ کر رہی ہے تاکہ وہ متحد نہ ہو سکیں۔

نعیم حنیف کا کہنا تھا کہ یہ شو ایک بدنامی بن چکا ہے، اسی وجہ سے اس کا فائنل نہ تو ریکارڈ کیا گیا اور نہ ہی نشر کیا گیا، یہاں تک کہ احسن قریشی سے بھی رابطہ کیا گیا کہ انہیں ادائیگی کر کے کیس واپس لینے پر آمادہ کیا جائے۔

 

Similar Posts