امریکا کے سیاسی حلقوں میں ’نیٹو‘ اتحاد کی اہمیت اور اس سے ممکنہ علیحگی کے حوالے سے بحث نے شدت اختیار کر لی ہے۔ امریکی سیاسی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا نیٹو کو ’کاغذی شیر‘ قرار دینا اور اس سے علیحدگی کی دھمکیاں دینا امریکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
معروف امریکی میگزین ٹائم میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک کے فوجی اتحاد ’نیٹو‘ سے انخلا امریکا کی سلامتی کے لیے نقصان دہ اور خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کی باضابطہ رضامندی کے بغیر کوئی بھی امریکی صدر اس عالمی اتحاد سے یکطرفہ علیحدگی اختیار نہیں کر سکتا۔
سینیٹر ٹم کین نے امریکی قوانین پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ماضی میں مارکو روبیو کے ساتھ مل کر ایک بل پر کام کیا تھا جسے سینیٹ نے بھاری اکثریت سے قانون کا حصہ بنایا تھا۔ اس قانون کی رو سے صدر کے پاس نیٹو سے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سینیٹر کین کے مطابق یہ بل امریکا میں نیٹو کی اہمیت پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مستحکم اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
مضمون میں سینیٹر کین نے صدر ٹرمپ کے ان بیانات پر بھی کڑی تنقید کی ہے جس میں انہوں نے اس اتھاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ ٹرمپ نیٹو پر اس لیے تنقید کر رہے ہیں کیونکہ یورپی اتحادیوں نے ایران میں ان کی جنگ کی حمایت نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران جنگ ٹرمپ انتظامیہ کا غلط فیصلہ ہے جو امریکی کانگریس یا نیٹو اتحادیوں سے پیشگی مشاورت کے بغیر شروع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو ارکان کی جانب سے اس تنازع میں شامل نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان سے مشورہ نہیں لیا گیا، اور وہ صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی اپنی معیشتوں پر دباؤ کا شکار ہیں۔
سینیٹر ٹم کین نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو چھوڑنے سے عالمی سطح پر جو خلا پیدا ہوگا، روس اور چین اسے بھرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ نے کانگریس کو نظرانداز کر کے نیٹو کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین اور المناک غلطی ہوگی۔ اس صورت میں امریکی کانگریس ان کی اس کوشش کو ناکام بنا کر اپنے آئینی کردار کا دفاع کرے گی۔