لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں، ہمارے ہاتھ ٹریگر پر رہیں گے: ایران

0 minutes, 0 seconds Read

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کے حملوں سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ہمارے ہاتھ ٹریگر پر رہیں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ لبنان پر حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا دیں گے، اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے خطے میں کشیدگی مزید اضافہ ہوگا۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے کھلی خلاف ورزی ہیں جو جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے اقدامات دھوکہ دہی اور عدم تعمیل کا اشارہ دیتے ہیں جس کے باعث مذاکرات بے معنی ہوجاتے ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید واضح کیا کہ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ہمارے ہاتھ ٹرگر پر رہیں گے۔

یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے لبنان میں 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں وہ حزب اللہ کے ٹھکانے قرار دیتا ہے۔

ادھر علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی تجاویز میں لبنان اور تمام مزاحمتی محور شامل ہیں، جنگ بندی خلاف ورزیوں کی بھاری قیمت اور ان کا سخت ردعمل ہوگا۔

محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بات چیت سے پہلے ہی 10 نکاتی تجاویز کے 3 اہم نکات کی خلاف ورزی کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی فضائی حدود میں ڈرون کی دراندازی ہوئی، ایران کے یورینیئم افزودگی کے حق کی نفی کی گئی اور لبنان میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اس ساری صورت حال میں دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بیان پر ردعمل میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ قالیباف کا ٹوئٹ دیکھا ہے، یہ پندرہ نکاتی پلان ہے، اگر صرف تین نکات پر اختلاف ہے تو اچھی بات ہے کہ بہت سی باتوں پر اتفاق ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ پر جہاں ضروری سمجھے گا، حملے جاری رکھے گا۔

Similar Posts