میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ پی ایس ایل 11 میں پشاور زلمی کی قیادت کرنے والے سابق قومی کپتان اور معروف بیٹر بابر اعظم اپنی کھوئی ہوئی فارم میں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں ،بابرعظم اپنا اصل گیم کھیلنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاور زلمی کی ٹیم کامیابی کی جانب رواں ہو گئی ہے ،مجموعی طور پر کارکردگی سے بہت مطمئن ہوں،پی سی بی کے توسط سے قومی کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنی خدمات دیں، میرا تجربہ افتخار احمد سے زیادہ ہے ،افتخار احمد کو اپنی بولنگ پر بہت اعتماد ہے، وہ کھلاڑیوں کی خامیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ،پاکستان کرکٹ ٹیم کو افتخار احمد کی خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور کے مقابلے میں کراچی کی وکٹ قدر مختلف ہے،لاہور میں وکٹ پر زیادہ دیر رکنا مشکل نہیں تھا،میری کوشش ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنے تجربے سے فائدہ پہنچاؤں۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے کراچی کنگز کے معین علی نے کہا کہ پشاور زلمی نے اچھا کھیل پیش کر کے فتح اپنے نام کی ،کراچی کنگز اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی،پشاور زلمی نے اچھی بیٹنگ کرنے کے بعد بہترین بولنگ کر کے جیت کو گلے لگایا۔