امریکا کسی نہ کسی طرح ایران کا افزودہ یورینیئم حاصل کرکے رہے گا، ٹرمپ

0 minutes, 0 seconds Read
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کچھ نکات پر اتفاق ہوچکا ہے لیکن ایران نے یورینیئم افزودگی بند اور ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی شقیں ماننے سے انکار کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کہا کہ وہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے آبنائے ہرمز بند کرنے کو غیردانشمندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز 34 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں جو ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ہی ایران کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا جبکہ دیگر ممالک ایسا کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی شروع ہوگئی اور کچھ ممالک نے مدد کی پیشکش بھی کی ہے لیکن ایران پر حملے کے لیے اب ہمیں کسی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا سے رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اس سے قبل کچھ نکات طے پا گئے تھے لیکن ایران نے یورینیئم افزودگی نہ کرنے اور جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے نکات پر اتفاق نہیں کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ بڑی تعداد میں بڑے بڑے آئل ٹینکرز اور جہاز امریکا پہنچ رہے ہیں تاکہ ہم سے اعلیٰ معیار کا تیل خرید سکیں۔

امریکی صدر نے ایک بار دھمکی دی ہے کہ ایران کے بعد اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا جہاں عوام کو آمرانہ حکومت کا سامنا ہے۔

 

 

Similar Posts