لاہور ہائیکورٹ بار میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان صفدر نے بتایا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی وکالت کرتے چار سال ہو چکے ہیں، تاہم رواں سال اب تک صرف ایک ہی ملاقات ممکن ہو سکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی اور انہیں روزانہ تقریباً 22 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، جو ان کے بقول ذہنی اذیت کے مترادف ہے۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ جیل میں نہ انہیں ٹی وی، کتابیں یا دیگر سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی وہ کسی سے بات چیت کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ وکلاء تک رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے۔
سلمان صفدر نے مزید بتایا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی مسلسل قید تنہائی کو اذیت قرار دیتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل حکام کی جانب سے دی جانے والی یہ صورتحال کسی عدالتی حکم کا حصہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سات سال کی سزا سنائی جا چکی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہا۔
وکیل سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی قید تنہائی کے معاملے کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے فوری توجہ کا مطالبہ کیا۔
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ قید تنہائی کسی بھی قیدی کے لیے انتہائی سخت سزا ہے اور انصاف کے بغیر کوئی ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی کا کیس گزشتہ 13 ماہ سے نہیں سنا جا رہا، جبکہ قانونی ترامیم کے ذریعے اپیلوں کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کسی بھی قسم کی ڈیل سے انکار کیا ہے۔
سینیٹر حامد خان نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ وکلاء کی ذمہ داری ہے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور قید تنہائی جیسے اقدامات انسانی حقوق کے منافی ہیں۔