الجزیرہ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف تنازع کے بعد آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے زیادہ حساس سمندری راستوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس راستے میں بحری آمد و رفت میں بڑی کمی آئی ہے اور حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے عالمی توانائی اور تجارت کو متاثر کیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 100 جہاز گزرتے تھے، لیکن اب ٹریفک میں 95 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق صرف جنگ کے بعد نہیں بل کہ جنگ بندی کے باوجود بھی بحری آمد و رفت معمول پر نہیں آ سکی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اب تک 279 بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرے ہیں جب کہ 22 جہازوں پر حملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 14 اپریل کو کم از کم تین ٹینکرز خلیج میں داخل ہوئے، جن میں ایک پاناما کے پرچم والا جہاز بھی شامل ہے جو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ دو امریکی پابندیوں کے شکار ٹینکرز بھی اس راستے سے گزرے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کے لیے بحری ناکہ بندی 10 بجے سے نافذ ہے، جس کے تحت ایران کی بندرگاہوں کی طرف یا وہاں سے آنے والے تمام ممالک کے جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دباؤ جاری رہا تو وہ خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد ہرمز آبنائے سے زیادہ تر بین الاقوامی بحری ٹریفک متاثر ہوئی ہے اور اس اہم توانائی گزرگاہ سے تیل و گیس کی ترسیل بھی کم ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنگ سے قبل اس راستے سے یومیہ تقریباً 100 جہاز گزرتے تھے، تاہم اب یہ شرح 95 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود بحری آمد و رفت معمول پر نہیں آ سکی۔
الجزیرہ کے مطابق آبنائے ہرمز اور اس سے ملحق خلیجی پانیوں میں حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، عمان، عراق، قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب اور ایران کے سمندری علاقے شامل ہیں۔ ان واقعات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور بحری سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے 12 اپریل کے درمیان مجموعی طور پر 22 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی تجارتی راستے متاثر ہوئے اور سمندری نقل و حمل کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم مارچ کو عمان، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے پانیوں میں کئی تیل بردار جہازوں پر حملے کیے گئے، جن میں Skylight، Mkd Vyom، Hercules Star اور Stena Imperative شامل ہیں۔
بعد ازاں 3 مارچ کو متحدہ عرب امارات میں Libra Trader اور Gold Oak کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ 4 اور 6 مارچ کو عمان میں Safeen Prestige اور Mussafah 2 پر حملے رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ 5 مارچ کو کویت میں Sonangol Namibe اور 7 مارچ کو سعودی عرب میں Arabia III نامی جہاز بھی حملے کا شکار بنا۔
11 مارچ کو حملوں میں مزید شدت دیکھنے میں آئی جب متحدہ عرب امارات، عمان اور عراق کے پانیوں میں کئی جہاز نشانہ بنے۔ ان میں One Majesty، Mayuree Naree، Star Gwyneth، Safesea Vishnu اور Zefyros شامل ہیں، جو مختلف اقسام کے بحری جہاز تھے۔ اس کے اگلے روز 12 مارچ کو بھی متحدہ عرب امارات میں Source Blessing نامی کنٹینر جہاز پر حملہ رپورٹ ہوا۔
16 مارچ کو متحدہ عرب امارات میں Gas Al Ahmadiah، 19 مارچ کو قطر میں Halul 50، 28 مارچ کو عمان میں Sunny 77 اور 30 مارچ کو متحدہ عرب امارات میں Al Salmi نامی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا اور مختلف خلیجی ممالک کے پانی اس کی لپیٹ میں آتے رہے، جس سے خطے میں بحری سلامتی کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی۔
یکم اپریل کو قطر کے پانیوں میں Aqua 1 نامی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جسے میزائل حملے کا سامنا کرنا پڑا اور اسے جزوی نقصان پہنچا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔ اس کے بعد 7 اپریل کو ایران کے قریب Qingdao Star نامی کنٹینر جہاز پر بھی حملہ رپورٹ ہوا، جس میں جہاز کو نقصان پہنچا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
اپریل کے آغاز میں بھی آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی اور جہازوں کو لاحق خطرات کم نہیں ہوئے، جس کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ بدستور قائم ہے۔
یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ کشیدگی کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے عالمی توانائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث تیل و گیس کی فراہمی متاثر ہوئی، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہوا اور بحری انشورنس و ترسیلی اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے ایشیائی خریدار سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
جنگ کے بعد ایران نے جہاز رانی کے لیے ایک نیا راستہ مقرر کیا ہے، جس کے تحت بحری جہازوں کو لراک اور ہرمز کے جزائر کے درمیان سے گزرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سکیورٹی خدشات اور ممکنہ بارودی سرنگوں کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کے لیے بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ان بندرگاہوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے تمام جہازوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جبکہ ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر دباؤ برقرار رہا تو وہ خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
موجودہ صورت حال میں آبنائے ہرمز ایک سنگین بحران سے دوچار ہے، جہاں بحری آمد و رفت شدید حد تک کم ہو چکی ہے اور حملوں کا خطرہ بدستور برقرار ہے، جبکہ بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو عالمی توانائی اور تجارتی نظام پر اس کے مزید گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔