ایران کے جنگ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 270 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

0 minutes, 0 seconds Read

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والی تباہی کا ابتدائی تخمینہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان نقصانات کی مالیت تقریباً 270 ارب ڈالر بنتی ہے، تاہم حکام کے مطابق حتمی اعداد و شمار مزید تفصیلی جائزے کے بعد اس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کے روز روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ نقصانات کا تخمینہ ابتدائی جائزوں کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم جن اہم معاملات پر کام کر رہی ہے ان میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ہرجانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

فاطمہ مہاجرانی نے واضح کیا کہ 270 ارب ڈالر کا تخمینہ حتمی نہیں بلکہ ابتدائی ہے۔ انہہوں نے کہا کہ نقصانات کا اندازہ مختلف مراحل میں لگایا جاتا ہے، اس وقت مختلف مراحل پر مشتمل جائزہ لیا جارہا ہے، درست اعداد و شمار کا تعین حکومت کا اقتصادی شعبہ کرے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے مرحلے میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے براہِ راست نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، جب کہ دوسرے مرحلے میں معاشی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں ٹیکسز میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں کی بندش جیسے عوامل شامل ہیں۔

فاطمہ مہاجرانی کے مطابق اسلام آباد میں حالیہ مذاکرات کے دوران ایران کو امریکی فوجی کارروائیوں کے بدلے ہرجانے کی ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق کا ہر صورت دفاع کرے گا، جس میں میناب اسکول میں جاں بحق ہونے والوں کے خون کا معاوضہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خزانہ نے اتوار کو ایک بیان میں اعتراف کیا کہ صیہونی ریاست ایران کے خلاف جنگ پر 11 ارب ڈالر سے زائد پھونک چکی ہے، جو ایک ابتدائی تخمینہ ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فریقین کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ جس کے بعد امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلے دور میں حتمی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود فریقین کے پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور امکان ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

Similar Posts