ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دباؤ کا شکار، سرمایہ کاری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، وزیر خزانہ

0 minutes, 0 seconds Read
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے ان کی سرمایہ کاری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں کے موقع پر باروررز پلیٹ فارم کے اجرا کی تقریب میں شرکت کے موقع پر وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ترقی پذیر ممالک شدید قرضہ جاتی دباؤ کا شکار ہیں جہاں بلند شرح سود اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی کے باعث ان کی ترقی اور پائیدار نمو کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اگرچہ داخلی اصلاحات نہایت اہم ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے تاہم عالمی مالیاتی نظام میں موجود ساختی رکاوٹیں قرض لینے والے ممالک کے لیے دستیاب پالیسی گنجائش کو محدود کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ باروررز پلیٹ فارم ایک دیرینہ خلا کو پُر کرتا ہے، کیونکہ قرض لینے والے ممالک کے پاس ایسا کوئی مخصوص فورم موجود نہیں تھا جہاں وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کر سکیں، ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کر سکیں اور اپنے اجتماعی مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم کسی مذاکراتی بلاک کے طور پر نہیں بلکہ ایک رضاکارانہ رکن ممالک کی زیرِ قیادت اقدام ہے جس کا مقصد باہمی سیکھنے، تجربات کے تبادلے اور عالمی مالیاتی مباحث میں قرض لینے والے ممالک کی آواز کو مؤثر بنانا ہے۔

وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی وکالت کو سراہا، مصر کی قیادت کی تعریف کی اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (ہو این سی ٹی اے ڈی) کی معاونت کا اعتراف کیا۔

انہوں نے پلیٹ فارم کے عبوری چیئرمین کے طور پر مصر کے اعلان کا بھی ذکر کیا۔

Similar Posts