ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی ’’سب سے پہلے اسرائیل‘‘ کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے مطالبہ کیا امریکا ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ کی پالیسی کو ترک کرکے اپنے طے شدہ سفارتی وعدوں کی پاسداری کرے جن سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔
انھوں نے پراکسی کے الزام پر کہا کہ ایران کا مشرق وسطیٰ کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلق موجود ہے اور دونوں کا جنگ بندی پر مؤقف بھی یکساں ہے۔
بعد ازاں محمد باقر قالیباف نے لبنانی پارلیمنٹ کی اسپیکر سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی اور کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی خود ایران کی جنگ بندی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد بھی ایران نے دشمن ممالک کو مستقل جنگ بندی پر مجبور کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی جاری ہے جس میں امریکا حملے بند جب کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔