ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکہ بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتے کے روز اس راستے سے گزرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اس سے قبل بحری ٹریکنگ ڈیٹا سے متعلق یہ بات سامنے آئی تھی کہ 8 آئل ٹینکرز پر مشتمل ایک قافلہ آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا، جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے سات ہفتوں بعد اس راستے پر بحری سرگرمی کی پہلی بڑی نقل و حرکت تھی۔
ایران نے جمعہ کو تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اب ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکا نے ناکہ بندی کے نام پر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس لیے ایران نے بھی اس تزویراتی آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی فوجی کمانڈ نے اپنے بیان میں امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ناکہ بندی کے نام نہاد بہانے کے تحت سمندری قزاقی اور بحری چوری کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس آگیا ہے اور یہ اہم عالمی راستہ اب ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں رہے گا۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کر دیتا۔
پاسداران انقلاب کی کمانڈ نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے بحری جہازوں کے لیے سمندری سفر کی مکمل آزادی بحال نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز کی حیثیت سخت کنٹرول میں رہے گی اور اسے سابقہ صورتحال پر ہی برقرار رکھا جائے گا۔