5

اومیکرون کے خلاف فائزر کا نئی ویکسین کی آزمائش جلد شروع کرنے کا اعلان

فائزر
فائزر کی جانب سے کورونا وائرس کی قسم اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کی انسانوں پر آزمائش جنوری 2021 کے آخرشروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق فائزر کے چیف سائنٹیفک آفیسر (سی ایس او) مائیکل ڈولسٹن نے بتایا کہ ہم جنوری کے آخر میں نئی کووڈ ویکسین کی آزمائش شروع کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد کلینکل ٹرائلز ہوں گے تاکہ نئی ویکسین کے اومیکرون کے خلاف افادیت کا موازنہ موجودہ ویکسین سے کیا جاسکے۔

فائزر کی جانب سے یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب اومیکرون قسم دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور نئے کیسز و اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

مائیکل ڈولسٹن نے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اومیکرون کے لیے مخصوص ویکسین کی ضرورت پڑے گی یا نہیں۔

مگر کمپنی اس اپ ڈیٹڈ ویکسین کو مارچ کے آخر تک تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا نے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویکسین مارچ تک تیار ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا ‘میں نہیں جانتا کہ ہمیں اس کی ضرورت ہوگی یا نہیں، میں نہیں جانتا کہ اسے استعمال کیا جائے گا یا نہیں، مگر وہ تیار ہوجائے گی’۔

کمپنی کے ایک ترجمان کے مطابق نئی تحقیق کی تفصیلات ریگولیٹرز کے ساتھ طے کرنا باقی ہے جیسے اس میں کتنے رضاکاروں کوشامل کیا جائے گا اور کن ممالک میں ٹرائلز کیے جائیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ اس تحقیق کا بنیادی مقصد موجودہ ویکسین اور اومیکرون کے لیے اپ ڈیٹ ویکسین کے مدافعتی ردعمل کا موازنہ کرنا ہے، اس مقصد کے لیے ٹرائل میں رضاکاروں کو ویکسین کی چوتھی خوراک استعمال کرائی جائے گی۔

مائیکل ڈولسٹن کے مطابق فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ موجودہ ویکسین سے بھی اومیکرون قسم سے متاثر ہونے پر ہسپتال میں داخلے کے خطرے سے ٹھوس تحفظ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مگر موجودہ ویکسین کم شدت والی بیماری کی روک تھام میں کم مؤثر ہے اور اپ ڈیٹڈ ویکسین سے اس کمی کو دور کیا جاسکے گا۔

ان کا کہنا تھا ‘اگر اومیکرون ویکسین بیماری کی شرح کو مزید کم کرنے میں کامیاب رہی تو ایسے حالات میں ہم مارچ میں اسے متعارف کرانے پر غور کریں گے’۔

انہوں نے بتایا کہ فائزر کی جانب سے افریقہ اور ایشیا میں ابھرتی کورونا کی نئی اقسام کی شناخت کے لیے حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔

ان کے مطابق اس کام سے کورونا کی مزید لہروں سے مقابلے کے لیے تیار ہونے میں مدد ملے گی۔

مائیکل ڈولسٹن نے کہا کہ نئی اقسام کی نگرانی سے فائزر کو ویکسین کے بہترین ورژن کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی جس کو مستقبل میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں