آئی ایم ایف سے بڑا معاہدہ، درآمدی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنیوالی 2,660 سے زائد غیر ٹیرف رکاوٹوں کاجائزہ لے گا اور ان میں سے کئی کو جلدختم کر دیاجائے گا۔

ذرائع کے مطابق 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت ہونیوالے معاہدے میں حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ جون سے ان پابندیوں کو ختم کرنے کاعمل شروع کر دیا جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں موبائل فونز اورگاڑیوں کی درآمد پر عائد رکاوٹوں میں نرمی متوقع ہے۔حکام کاکہناہے کہ حکومت 76 کسٹمزکوڈز پر لاگو پابندیوں کو ختم کرے گی، جن کا تعلق آٹوموبائل، ادویات، اسٹیل،خوراک، زرعی اجناس،کاسمیٹکس اورموبائل فونز سے ہے، اقدام سے ڈیری مصنوعات، ٹیکسٹائل، اسٹیل بارز اور ادویات کی درآمد بھی آسان ہو جائے گی۔

آٹوموبائل سیکٹر میں مکمل اور نیم تیارگاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں نرم کی جائیں گی،جبکہ موبائل فونز کی درآمدکو پی ٹی اے کی منظوری سے مشروط رکھنے کی شرط بھی ختم کی جاسکتی ہے،زرعی شعبے میں گوشت،دودھ، پیک شدہ خوراک اور خوردنی تیل کی درآمدکوآسان بنانے کا عندیہ دیاگیا،جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خام مال کی درآمد میں بھی رکاوٹیں کم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق باقی ماندہ غیر ٹیرف رکاوٹوں کومرحلہ وار ختم کیاجائے گا اور اس عمل کو 2026 کے آخر تک کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے سامنے پیش کیاجائے گا۔

حکومت نے یہ بھی عندیہ دیاہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولات میں مزیدکمی کرے گی، تاکہ 2030 تک اوسط ٹیرف 6 فیصد سے کم کیاجاسکے،تاہم صنعتی حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ مقامی صنعت کو اعتمادمیں لیے بغیر ایسی اصلاحات نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

Similar Posts