آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بندش کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال اور کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار میں 57 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے خلیجی ممالک کی توانائی کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحری راستوں پر کشیدگی، تجارتی جہازوں کی تحویل اور ایران و امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمت 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ برطانوی خام تیل بھی 2 فیصد اضافے کے بعد 107 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔