غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد 20 سال میں پہلی مرتبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ساتھ غزہ کے ایک علاقے ’دیر البلح‘ میں بھی ہفتے کو پولنگ جاری ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے انتخابی علاقوں میں ’دیر البلح‘ کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شامل کیا ہے۔ حماس نے انتخابات میں باقاعدہ حصہ نہیں لیا البتہ پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت اور نتائج کے احترام کا اعلان کیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کے لیے سینٹرل الیکشن کمیشن مقبوضہ کنارے رام اللہ میں قائم کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 15 لاکھ جب کہ غزہ کے علاقے دیر البلح میں 70 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔
غزہ کی پٹی سے صرف دیر البلح کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ یہ غزہ کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جو اسرائیلی افواج کی تباہی سے بڑی حد تک محفوظ رہے ہیں اور اس یہاں سے آبادی کا انخلا دیگر علاقوں کی نسبت کم ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے دیر البلح کو ’پائلٹ پراجیکٹ‘ کے طور پر شامل کیا ہے تاکہ مغربی کنارے اور غزہ کو سیاسی طور پر ایک نظام سے جوڑنے کا تاثر دیا جا سکے۔
انتخابات کے لیے پولنگ ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق 7 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 9 بجے) شروع ہوئی۔
مغربی کنارے کے شہر البیرہ اور غزہ میں دیر البلح سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں فلسطینیوں کو طویل عرصے بعد پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
فلسطینی قانون کے تحت ان انتخابات میں کوئی بھی شخص آزاد امیدوار کے طور پر تنہا الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ایک گروپ یا پینل کی صورت میں اپنی رجسٹریشن کروائیں، جسے انتخابی فہرست کہا جاتا ہے۔
زیادہ تر انتخابی فہرستیں صدر محمود عباس کی تحریک ’فتح‘ یا آزاد امیدواروں پر مشتمل ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی کے تقریباً نصف حصے پر کنٹرول رکھنے والی ’حماس‘ نے باقاعدہ طور پر بطور جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم اپنے حامیوں کو آزاد حیثیت میں شامل ہونے سے بھی نہیں روکا ہے۔
’فتح‘ کا مقابلہ زیادہ تر آزاد پینلز سے ہے، جن کی قیادت ’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین‘ جیسے دھڑوں کے امیدوار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کچھ آزاد امیدواروں اور پینلز کو حماس کی حمایت حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے دیر البلح میں پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کے لیے اپنی پولیس اور سیکیورٹی فورسز تعینات کرنے اور انتخابات کے نتائج کے احترام کا اعلان کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطین میں 2006 کے بعد سے کوئی صدارتی یا قانون ساز اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی کونسلیں فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام چند فعال جمہوری اداروں میں سے ایک بن چکی ہیں۔ یہ کونسلیں قانون سازی کے بجائے پانی، صفائی ستھرائی اور مقامی انفراسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات کی ذمہ دار ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں ان انتخابات کی ساکھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کی مقامی کونسلز پانی، سڑکوں اور بجلی جیسے معاملات تو دیکھتی ہیں لیکن کسی بھی حتمی پالیسی کے لیے اسرائیلی منظوری درکار ہوتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان فرید طعم اللہ کے مطابق دیر البلح میں ووٹنگ کے لیے اسرائیل یا حماس سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور بیلٹ پیپرز، بیلٹ بکس اور سیاہی جیسا سامان غزہ پہنچانے میں بھی دشواری رہی، جس کے باعث محدود اور مقامی سطح پر انتظامات کیے گئے جب کہ رام اللہ اور نابلس سمیت کئی اہم شہروں میں امیدواروں یا فہرستوں کی کمی کے باعث انتخابات منعقد نہیں ہو رہے۔
دوسری جانب الجزیرہ کی رپورٹ میں فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حماس اب بھی عوامی سطح پر سب سے مقبول دھڑا ہے، تاہم غزہ ایک نئے طرزِ حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’20 نکاتی منصوبے‘ کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دیا گیا ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے، تعمیر نو اور اقتدار کی منتقلی جیسے اگلے مراحل پر پیش رفت فی الحال تعطل کا شکار ہے۔