سماعت کے دوران وکیل صفائی احد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ فخر الرحمان نے صرف ایک مذہبی عالم کی بات کو ری ٹویٹ اور رپورٹ کیا تھا اور انہوں نے اپنی طرف سے کوئی جھوٹی یا من گھڑت معلومات پھیلانے کی کوشش نہیں کی۔ وکیل کے مطابق صحافی نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب بھی دیا تھا اور تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ فخر الرحمان کا موبائل پہلے ہی قبضے میں لیا جا چکا ہے اور مزید ریکوری کی ضرورت نہیں، لہٰذا انہیں کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ فخر الرحمان نے اپنے ٹویٹس کی ملکیت تسلیم کی ہے تاہم موبائل کا پاس ورڈ فراہم نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مزید ڈیجیٹل شواہد کی جانچ ضروری ہے۔ ادارے نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا، اور بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے این سی سی آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے فخر الرحمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔