کتابوں کا عالمی دن

0 minutes, 1 second Read
کتابوں کا عالمی دن ہر سال باقاعدگی کے ساتھ 23 اپریل کو یونیسکو کے زیر اہتمام پوری دنیا میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، اس کی وجہ سے طلبہ میں مطالعے کے رجحان میں اضافہ ہوا، اس دن کا انتخاب اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ یہ دن عظیم شخصیات سے بھی منسوب ہے۔

برطانوی ڈراما نگار ولیم شیکسپیئر اور ہسپانوی مصنف میگوئل ڈی سروانٹیس، انگارسیلوڈی لاویگا کا انتقال 23 اپریل کو ہی ہوا تھا۔ گویا ان کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے اس دن کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔اس کا باضابطہ نام World Book Day ہے۔ اس کا آغاز 1995 میں ہوا۔ برطانیہ اور امریکا میں کتابوں کا عالمی دن 4 مارچ مقرر ہے۔

 تاریخی لحاظ سے اس کی ابتدا دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ 1616 میں اسپین کے شمال مشرق میں واقع کیٹولینیا کے مقام پر وہاں کے مرد اپنی خاص رشتوں میں منسلک خواتین کو گلاب کے پھول پیش کرتے تھے۔

یہ نوازشات اور محبت کا اظہار نوعمر دوشیزاؤں سے بھی کیا جاتا تھا، اس خوب صورت علاقے میں دنیا بھر سے اور بالخصوص یورپ سے لاکھوں کی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں، خواتین اور مرد کیٹولینیا کا رخ کرتے ہیں اور اپنے پسندیدہ لوگوں کو پھول پیش کرکے دلی خوشی حاصل کرتے ہیں۔

اس کی وجہ وہ جس مقصد کے لیے سفر کرتے ہیں وہ مقصد محبت کی فضاؤں اور حسین موسم میں حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار اور پھولوں کے تبادلے کی مدت دو دن مقرر کی گئی ہے۔ اس دوران شیکسپیئر کے ڈرامے مشہور ناول ڈان کیہوٹی کے اہم اجزا پڑھے اور شوق سے سنے جاتے ہیں۔

ایک جم غفیر ان دلچسپ اور معلوماتی کتابوں سے استفادہ کرتا ہے۔یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے اسپین کے کئی علاقوں تک پہنچ گیا اور یہاں بھی وہی صورت حال ہوتی۔ لوگ ان علاقوں میں جمع ہوتے اور پھول اور کتابوں کی مہک اور مطالعہ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

انہونی خوشی اور دلی مسرت کی انتہا یہ ہوئی کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جنرل کونسل کا فرانس میں اجلاس ہوا تو اس میں یہ طے ہوا کہ 23 اپریل کو ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹس کا دن مقرر کیا جائے، اس فیصلے کے بعد سے یہ دن دنیا کے 100 ملکوں میں منانے کی روایت نے جنم لیا۔

اس میں ایک خاص اضافہ یہ بھی ہوا کہ رواں صدی کے آغاز سے کسی ملک کے کسی اہم شہر کو کتابوں کا عالمی دارالحکومت کا درجہ دیا جاتا ہے۔

2026 کے لیے فرانس کے شہر اسٹراسبرگ Starsbourg کو یہ اعزاز دیا گیا یہاں پر کتابوں کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں ملکوں ملکوں میں اس دن علم و ادب کے حوالے سے مکالمہ ہوتا ہے، دانشور اور ادیب جمع ہوتے ہیں اور کتاب کی اہمیت اور مطالعے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہ دن اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن جگہ جگہ مذاکرے اور بک فیئر کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اردو ادب کی نابغہ روزگار ہستیوں کی خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور طلبہ کو مطالعے کی طرف راغب کرنے کے لیے کتابوں کی مفت تقسیم اور انھیں پڑھنے کے لیے ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

اگر ہم غور کریں تو یہ بات مبالغہ آرائی پر نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمارے ملک میں اسکول کی تعلیم پرائمری سے لے کر سیکنڈری اور کالج کی سطح تک کتابیں پڑھنے کا رجحان ہے لیکن آج کل جدید ٹیکنالوجی پر طلبا انحصار کرنے لگے ہیں اور جب سے اے آئی وجود میں آئی ہے تو اس سے اور دوسرے ٹیکنالوجی کے ذرائع طلبا و طالبات اپنے استعمال میں لا کر کتابوں سے دور ہو گئے ہیں۔

وہ کتابوں سے دوری کے نقصانات سے ناواقف ہیں وہ اس بات کو بھی مدنظر نہیں رکھتے ہیں کہ اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ بجلی کے محتاج ہیں اور ہمارے ملک میں بجلی و گیس نایاب ہو چکی ہے۔ ان حالات میں کتابیں ہی ساتھ دیتی اور مان بڑھاتی ہیں۔ علم کے دَر کھولتی ہیں کیسے بھی حالات ہوں سفر میں ہوں یا حضر میں ایک پسندیدہ کتاب بہترین ہم سفر ثابت ہوتی ہے۔

 کتاب کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک ایسی عظیم کتاب کا ذکر ضروری ہے جو علم اور نور سے بھری ہوئی ہے جس میں حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں سے کی ہیں انھیں اچھائی، برائی کی تمیز سکھائی۔

جنت اور دوزخ کے راستوں پر چلنے والوں کو اس بات کا اچھی طرح درس دیا گیا ہے۔ نیک اعمال، حقوق کی ادائیگی اور نماز، والدین کی فرمانبرداری کرنے والے جنت کے باغوں میں ہمیشہ رہیں اور اس کے برعکس جو لوگ دنیا کی آسائشوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، جائز و ناجائز کے فرق کو نہیں سمجھ پاتے ہیں اور توبہ کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں بے شک ایسے لوگ سزا کے مستحق ہیں۔

یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ درگزر فرمائے۔ کسی ایک نیکی کے بدلے یا پھر ایسا شخص پکڑ میں آ جائے۔ یہ کتاب ہے قرآن مجید اس کے 55 اسما ذکر کیے گئے ہیں کسی عالم نے 88 اور کسی نے 90 شمار کیے لیکن علما کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے اصل نام صرف 5 ہیں باقی اس کے صفاتی نام ہیں۔

اگر آج یہ عہد کرلیں اور پھر یہ دن اس کا اعادہ بھی کریں کہ دنیا کے ہر شخص کے لیے سب سے عظیم اور بے شمار علوم کا ماخذ قرآن مجید ہے جس کو پڑھنا اور اس کی تعلیم پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔یہ مکمل ضابطہ حیات ہے جو دل سے اور محبت سے پڑھے گا اسے سمجھے گا وہی دین و دنیا میں کامیاب ہوگا۔

Similar Posts