دورقیامت

0 minutes, 0 seconds Read
یہ دنیا جس کے ہم سب انسان باسی ہیں، ایک دن فنا ہو جانی ہے اور اس بات پر دنیائے فانی کے تمام رہائشیوں کا کامل یقین ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب کے پیروکار ہوں، ذاتِ خداوند کا اقرار کرتے ہوں یا انکار کرنے کی جسارت رکھتے ہوں۔ مجھ سمیت تمام انسان اپنی کم عمری سے یہ بات اپنے والدین، بزرگوں اور اہل ِ علم افراد سے سنتے آئے ہیں کہ روزِ اوّل سے ہی ایک دن مقرر ہے جب دنیا سمیٹ دی جائے گی اور وہ دن زمین پر انسان کی موجودگی کا آخری یوم ہوگا مگر ہمیں کسی نے یہ نہیں بتلایا تھا کہ اُس روز آخر تک پہنچنے کے لیے انسان کا ایک انتہائی بدترین وقت سے سامنا ہوگا جسے اگر دور قیامت کہا جائے تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔

وقت حاضر اپنے ہر انداز و اطوار سے وہی دور قیامت ہے جس کے اختتام پر دنیا کا پردہ گرا دیا جائے گا اور یہاں کے ہر کردار کو اپنی اداکاری مکمل کرکے الوداعی سلام پیش کرتے ہوئے دنیا کے اسٹیج سے اُتر جانا ہے۔

یہ دنیا اپنے آغاز میں حق و باطل کے مابین مقابلے کی جو منظرکشی پیش کر رہی تھی، اپنے اختتامی لمحات میں بھی وہی منظرنامہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے جب کہ اس جہان فانی کا درمیانہ وقت نہ صرف عمدہ و بہترین تھا بلکہ انسان میں انسانیت کی چاشنی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ جب سے انسان نے انسانیت کا چوغہ اُتار پھینکا ہے تبھی سے اس پر ابلیس کی شاگردی اختیار کرنے کا الزام لگنے لگا ہے۔

 انسان کو اُس کے خالق نے جب خلق کیا تھا تب معاملہ انسانیت اور شیطانیت کی دو الگ الگ تعریفوں کو رہتی دنیا تک ہر لحاظ و اعتبار سے مستند رکھنے کا تھا پھر عرش سے فرش پر نزول انسانی ہوا تو ابتداء سے ہی لفظ فرض اُس کے وجود کا حصہ بنا اس کے بعد صفاتِ انسانی کا تعین ہوا اور آگے چل کر یہی صفات انسان کی ذات کا بنیادی جز بن گئیں، اگر حقیقت پسندی کے عینک سے دیکھا جائے تو بحیثیت انسان پیدا ہونے سے گروہ انسانی کے رُکن کے طور پر مرنے تک کا سفر اُتنا کٹھن نہیں ہے جتنا انسان نے بنا دیا ہے۔

جس تخلیق الٰہی کو تمام خطاؤں سے پاک مخلوق (فرشتوں) نے سجدہ کیا تھا افسوس آج وہ اپنی پہچان کھو بیٹھی ہے۔

اس بے ثباتی دنیا کو موجودہ دور کے انسان نے اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھ کر پہلے اپنی ذات کی نفی کی جس کے باعث اُس کی ساخت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، اس کے بعد وہ اپنے قبیلے کے دیگر افراد کے ساتھ کئی دنیاوی محاذوں پر کمربستہ ہو گیا جس کا ہی نتیجہ ہے کہ زمانہ حال میں انسان اور شیطان کے درمیان موجود تمام فرق بہت تیزی سے ماند پڑتے جا رہے ہیں۔

جس مخلوق کو مصور کائنات نے ’’اشرف المخلوقات‘‘ کا درجہ عطا فرمایا وہ اس شرف خاص کی قطعی لاج نہ رکھ پائی بلکہ اپنے رب و محسن کا احسان مند ہونے کے بجائے اُس ذاتِ عظیم کی کبریائی سے منحرف ہوگئی۔

 جھوٹ کا سہارا لینا، سچ مسخ کرنے کے اقدام اُٹھانا، دھوکا دہی کی روش اختیار کرنا، اپنے مفاد کے لیے دوسرے انسانوں کا استحصال کرنا، اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا، تہمت لگانا، ناحق پریشان کرنا۔ اپنے مطلب کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرنا، ظلم و جبر والے معاملات رکھنا، زیادتی کو اپنی طبیعت کا حصہ بنانا۔

منافقوں کی فہرست میں باخوشی شمولیت اختیار کرنا، جانتے بوجھتے شر کا لبادہ اوڑھنا، احسان فراموشی کی عادت اپنانا، عہد وفا نہ کرنا۔ انسانی حدود سے تجاوز کرنا، اخلاقی قدروں سے منہ موڑ لینا، حلال اور حرام، جائز اور ناجائز، صحیح اور غلط کو جدا کرنے والی لکیر یکسر مٹا دینا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ منفی نوعیت کا ایسا کونسا امر باقی رہ گیا ہے جس کی فخریہ پیش کش آج کا انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں نہیں کر رہا ہے۔

جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی زندہ جاوید مثال ہمیں موجودہ وقت میں اپنے اردگرد انفرادی اور اجتماعی سطح پر دیکھنے کو مل رہی ہے، طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہوتا ہے یہ بھی ہمیں زمانہ حال بہت واضح انداز میں دکھلا رہا ہے۔ کمزور انسان کی حیثیت حشرات الارض کے برابر ہو کر رہ گئی ہے۔

انسانوں کی اکثریت اپنی ذات کے علاؤہ کسی دوسرے کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی ہے، بس اُن کا کام نکل جائے باقی دنیا جائے بھاڑ میں والی سوچ وہ اپنے ماتھے کا جھومر بنا بیٹھے ہیں۔ رنگ بدلنا پہلے صرف گِر گٹ کی ذات سے منسوب تھا لیکن اب انسان نے گِرگٹ کو اس کام میں مات دے دی ہے۔

 انسانی زندگی جو کبھی دلکش رنگوں کا حسین امتزاج تھی وہ رنگ اب پھیکے پڑ رہے ہیں، زندگی جینے کا مزا اپنے اختتام کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے۔ سب لوگ خود کو بہلا رہے ہیں، دنیا کے سامنے خوش رہنے کی بھدی اداکاری کر رہے ہیں۔

انسان کے پاس جو آسائشیں اور نعمتیں موجود ہیں اُن پر اپنے خالق کا شکر گزار ہونے کے بجائے وہ دوسرے انسانوں کی نوازشات پر بری نظر گاڑھے ہوئے ہے۔ اپنے محل میں کسی کو چین نہیں ہے اور برابر والے کی جھونپڑی میں براجمان اطمینان کو بے اطمینانی میں بدلنے کے لیے ہر دم تیار ہیں، من و سلویٰ خود کے ہاتھوں میں موجود ہے مگر غریب کی چٹنی روٹی چھیننے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

انسانیت کو لگنے والی پھپھوند سے جو سرانڈھ اُٹھ رہی ہے، اُس نے دنیا کی آب و ہوا کو اس حد تک آلودہ کر دیا ہے کہ یہاں اب دم گھٹنے لگا ہے۔ حساس انسان ان سب حالات کے باعث اعصابی تناؤ کا شکار ہیں۔ بہتری کی طرف جانے والے تمام راستوں پر شیطان کے پیروکار خود کو خدائی فوجدار ظاہر کرتے ہوئے تخریب کاری میں ملوث ہیں۔

یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، گزرا ہوا وقت شدت سے یاد آ رہا ہے، جو بگڑ گیا وہ مستقبل میں مزید بگڑے گا اور اُس کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے، یہ احساس دیمک بن کر ہماری روح کو چھلنی کرنے کے بعد اب ہمارے وجود کو کھا رہا ہے۔

Similar Posts