درس و تدریس میں سوال کی اہمیت

0 minutes, 0 seconds Read
ایسا عمل جس کے ذریعے طلبا میں تعلیم کے عمل کو انجام دیا جائے درس و تدریس کہلاتا ہے۔ درس و تدریس کے عمل میں سوال کی بڑی اہمیت ہے، اس کی اہمیت سے کسی طور بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، بقول ایک چینی مفکر کے جو انسان سوال کرتا ہے تو چند منٹ احمق تصور کیا جاتا ہے اور جو انسان سوال نہیں کرتا وہ ساری زندگی احمق تصور کیا جاتا ہے۔

سوال دراصل انسانی فطرت کا حصہ ہے جو صرف انسانوں سے مخصوص ہے جو اسے دیگر دوسری مخلوق سے امتیازی حیثیت دیتا ہے۔ انسان میں کسی بھی چیز بالخصوص اجنبی اور طاقتور چیز کو دیکھ کر تجسس پیدا ہوتا ہے، وہ اس کے بارے میں سوچتا ہے کہ اس چیز کی اصل حقیقت کیا ہے۔

کیوں اور کیسے کے سوالات اس کے ذہن میں اٹھتے ہیں۔یہ سوالات اس کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں ، وہ جوں جوں اس سوالات کی کھوج لگاتا چلا جاتا ہے ، اس کا تجسس بڑھتا چلا جاتا اور علم کے نئے در کھلتے چلے جاتے ہیں۔

جب تک اسے اپنے سوال کا درست جواب نہ مل جائے اس کی تسلی نہیں ہوتی۔ یہ تجسس اور بے قراری انسان کے علم میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور اس کے سامنے نئی دنیا کھلتی چلی جاتی ہے۔ درس و تدریس میں سوال نہ صرف تعلیم کا جز ہے بلکہ ذہنی بیداری کی علامت بھی ہے۔

انسان کا ذہن سکون ہی اس وقت پاتا ہے جب اسے اپنے سوال کا درست اور تسلی بخش جواب مل جاتا ہے۔ سوال کا مقصد موضوع کو واضح کرنا ہے اور تدریس کے عمل کو موثر بنانا ہے۔ انسان کی تعلیمی و شعوری ذہانت اور تخلیقی سفر کی ابتدا ہی سوال سے ہوتی ہے۔

جب آپ کوئی سوال کرتے ہیں تو وہ کسی مسئلے کا اخذ ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے مسئلے کے ابتدائی عمل کو سمجھ لیا ہے۔ اس لیے سوال کو آدھا علم قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے طلبا سوالات کے ذریعے جتنا سیکھ سکتے ہیں اتنا کسی اور ذریعے سے نہیں سیکھ سکتے۔سوالات کے ذریعے طلبا میں تعلیم سے عدم دلچسپی کو دلچسپی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

سوالات نہ صرف علم سے دلچسپی بڑھاتے ہیں بلکہ یہ ہمارے علم و شعور میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ سوالات مکالمہ کو جنم دیتے ہیں، مکالمے سیکھنے اور سکھانے کا عمل انجام دیتے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اس سے باہمی امور کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

سوال نہ کرنے کی صورت میں انسان میں تجسس کا عنصر دب جاتا ہے اس سے اس کے طرز فکر اور طرز عمل میں اندھی تقلید غالب آ جاتی ہیے اس میں سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں انسان عقل و شعور سے محروم ہو جاتا ہے۔

سوالات سے ابہام دور ہوتے ہیں، ناقص معلومات کی تکمیل ہو جاتی ہے، انسان میں اندھی تقلید کے بجائے تنقیدی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ یہ تنقیدی سوچ انسان کو غلط تصورات اور جھوٹے مفروضوں سے بچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور غور و فکر کی بنیاد سوال ہی ہے۔

سوالات کسی بھی مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ سوالات کے چھ زاویے ہیں، کیا، کیوں، کب، کہاں، کیسے اور کیوں۔ ان الفاظ کے ذریعے ہم سیکھنے کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں، یہ الفاظ ہمیں ابتدائی شعور سے آفاقی شعور تک پہنچا دیتے ہیں۔

الغرض سوال وہ کنجی ہے جس کی بدولت علم کا دروازہ کھلتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر نئی ایجاد، نیا نظریہ اور علمی دریافت نے کسی نہ کسی سوال کی کوکھ سے جنم لیا ہے اس بنیاد پر سوال کی اہمیت سے کوئی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ درس و تدریس میں سوال کے عمل میں کیا کیا مشکلات درپیش آتی ہیں۔ اس ضمن میں دیکھا گیا ہے کہ طلبا کے ذہن میں مختلف معلومات جمع ہوتی ہیں وہ متعلق اور غیر متعلق بنیادی اور غیر بنیادی کا فرق نہیں سمجھ پاتے جس کی وجہ سے وہ متعلقہ سوال کرنے کے بجائے غیر متعلقہ سوالات بھی کر دیتے ہیں جس سے سبق کی ترتیب متاثر ہوتی ہے۔

موضوع سے ہٹ کر سوال طلبا کے ذہن میں الجھاؤ پیدا کرتے ہیں اس سے پڑھانے کا عمل درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے ایسے طالب علم جنھیں تعلیم اور اس کے حصول سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی وہ اوٹ پٹانگ قسم کے سوالات کرتے ہیں تاکہ ٹیچر کو پریشان کیا جائے بلکہ ان کا مقصد تعلیمی ماحول کو خراب کرکے اپنے منفی جذبے کی تسکین کرنا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بیشتر اساتذہ سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں کہ ان سے کوئی سوال نہ کیا جائے۔ بہت کم اساتذہ ایسے ہوتے ہیں جو طلبا کو سوالات کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ بعض اساتذہ تو طلبا پر زور دیتے ہیں کہ طلبا سوال لازمی کریں، البتہ بعض اساتذہ کا اصرار ہوتا ہے کہ پڑھانے کے عمل کے دوران سوال نہ کیا جائے۔

طالب علم یہ کہتے ہیں کہ جو سوال ذہن میں آتا ہے اگر اس وقت نہ کیا جائے تو ذہن الجھن کا شکار ہو جاتا ہے اس طرح پوری بات واضح نہیں ہو پاتی۔ اس لیے اسی وقت اس سوال کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔ میری ذاتی رائے میں اگر سوال کا جواب مختصراً ہے تو اسے اسی وقت جواب دیا جائے اگر سوال تفصیل طلب ہے تو اس کے جواب کو موخر کرکے پڑھانے کے عمل کو مکمل کرکے جواب دیا جائے۔

 اب سوال یہ ہے کہ درس و تدریس میں سوالات کے عمل کو بہتر کیسے بنایا جائے؟ میری ذاتی رائے میں سوالات موثر تدریس کا ذریعہ ہے اس لیے سوالات موثر اور بامقصد ہونے چاہئیں۔ اساتذہ کی جانب سے یا طلبا کی جانب سے جو بھی سوال کیا جائے اس کا موضوع سے مطابقت رکھنا ضروری ہے۔

دوسرے یہ کہ جو سوالات بھی کیے جائیں ان میں باہمی ربط ہو، اس سے خیالات کا تسلسل قائم رہتا ہے اور نفس مضمون پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ سوالات طلبا کی ذہنی سطح، عمر، قابلیت کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

سوال اتنے آسان نہ ہوں کہ جواب کے لیے کسی ذہنی کاوش کی ضرورت نہ پڑے اور اتنے مشکل بھی نہ ہوں کہ ان کا جواب طالب علم کے بس سے باہر ہو۔ سوال کے بعد جواب سوچنے کے لیے طالب علم کو مناسب وقت بھی ملنا چاہیے۔

کوئی طالب علم رضاکارانہ طور پر سوال کا جواب دینے آگے آئے تو اس کا مذاق یا طنز کا نشانہ بنا کر اس کی خود اعتمادی کو مجروح نہ کریں، اگر سوال کی نوعیت غیر متعلقہ ہے تو ایسی صورت میں جواب کسی مناسب موقع تک کے لیے ملتوی کر دینا چاہیے۔

سوالات صرف ذہین طلبا سے ہی نہ کیے جائیں بلکہ جماعت کے دیگر طلبا سے بھی کرنا ضروری ہیں سب کو یکساں موقع دیا جانا چاہیے۔ یاد رکھیں علم کی بنیاد لفظ کیوں؟

یعنی سوال پر ہے، جب تک ہم سوال کرنے کے کلچر کو فروغ نہیں دیں گے علم کے حصول میں ناکام رہیں گے، جن معاشروں میں سوال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے وہاں تحقیق، تعلیم، انصاف اور سچائی کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور ایسے ہی معاشرے فلاح پاتے ہیں۔

Similar Posts