شہر کی بیشتر شاہراہیں اور گلیاں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ جگہ جگہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گہرے گڑھے اور خستہ حال انفرااسٹرکچر شہریوں کے لیے موت کے جال میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان گڑھوں میں سیوریج کا پانی جمع ہو جاتا ہے جس کے باعث ان کی گہرائی اور خطرناک نوعیت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں رہتا۔
خاص طور پر موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے افراد ہر لمحہ حادثات کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ روزانہ پیش آنے والے حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جا رہا ہے۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر 1 میں پچھلے دنوں پیش آنے والا ایک دل خراش ٹریفک حادثہ شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں، بے قابو ہیوی ٹریفک اور حکومتی غفلت کی ایک اور المناک مثال بن گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو بہنیں اپنے بھائی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سفر کر رہی تھیں کہ ایک تیز رفتار آئل ٹینکر نے انھیں کچل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں بہنیں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔
بھائی معجزانہ طور پر بچ گیا لیکن زخمی ہے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل سڑک کے خراب حصے اور گڑھوں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق سڑک پر جگہ جگہ گہرے گڑھے، ٹوٹا ہوا ڈامر اور جمع شدہ سیوریج کا پانی موجود تھا جس نے موٹر سائیکل کا توازن بگاڑ دیا، اور پیچھے سے آنے والے بھاری بھرکم ٹینکر نے انھیں روند ڈالا۔ دونوں بہنوں کی دردناک موت نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی،یہ حادثہ صرف دو زندگیاں نہیں لے گیا بلکہ پورے خاندان کی دنیا اجاڑ گیا ہے۔
وہ گھر جہاں ان بیٹیوں کی ہنسی گونجتی تھی، آج وہاں سسکیاں اور ماتم ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے وہ خاندان جن کے بچے تعلیم حاصل کر کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، اچانک حادثات کی نذر ہو کر والدین کی زندگی بھر کی امیدیں ساتھ لے جاتے ہیں۔
کئی گھروں میں یہی نوجوان روزگار کا سہارا، بوڑھے والدین کی امید اور بہن بھائیوں کے خوابوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ جب ایسے کفیل حادثات میں جان گنوا دیتے ہیں تو صرف ایک فرد نہیں مرتا بلکہ پورا خاندان معاشی، ذہنی اور جذباتی طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔
ماں کی آنکھیں عمر بھر اپنے بچوں کی راہ تکتی رہتی ہیں، باپ خاموشی سے اندر ہی اندر بکھر جاتا ہے، اور چھوٹے بہن بھائی زندگی بھر اس خلا کے ساتھ جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
کراچی کے عوام اب یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ آخر کب تک کراچی کی سڑکیں شہریوں کی قبریں بنتی رہیں گی۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں ڈمپرز اور ٹرکوں کی بے لگام آمد و رفت، ناقص سڑکیں، ناکارہ ٹریفک کنٹرول اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت روزانہ قیمتی جانیں نگل رہی ہے، مگر ہر حادثے کے بعد رسمی بیانات، وقتی کارروائیاں اور چند دن کی سختی تو نظر آتی ہے مگر نظام جوں کا توں رہتا ہے۔
کراچی میں محفوظ سفر اب سہولت نہیں بلکہ قسمت کا امتحان بن چکا ہے، جہاں نوجوان خوابوں سمیت سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں اور خاندان عمر بھر کے لیے آنسوؤں بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بارش ہو یا نہ ہو، کئی علاقوں میں سڑکیں مستقل طور پر گندے پانی میں ڈوبی رہتی ہیں۔ ٹھہرا ہوا سیوریج پانی شہریوں کی زندگی کو اذیت ناک بنا چکا ہے۔ دفاتر جانے والے افراد، طلبہ، بزرگ شہری اور خواتین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
لوگوں کو اپنے مذہبی مقامات تک رسائی اور عبادات کی ادائیگی میں بھی دشواری پیش آتی ہے کیونکہ غلیظ پانی کی اُڑتی چھینٹیں لباس کی پاکیزگی کو متاثر کرتی ہیں۔
بدبو دار اور آلودہ پانی پہلے سے تباہ شدہ شہری ماحول کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال ڈنگی، ملیریا اور دیگر مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ کرتی ہے۔ مسلسل کھڑا پانی جلدی امراض، انفیکشنز اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے، جب کہ بچوں اور بزرگوں کی صحت سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔
ٹریفک نظام بھی شدید متاثر ہے۔ پانی میں ڈوبی اور ٹوٹی سڑکیں ٹریفک جام کا مستقل سبب بن گئی ہیں۔ اکثر اوقات ایمبولینسیں بھی گھنٹوں ٹریفک میں پھنسی رہتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث کوئی مریض زندگی کی بازی ہار جائے تو اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوگی؟
دوسری جانب افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متعلقہ سرکاری ادارے اس سنگین صورتحال پر سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ عوام کا ماننا ہے کہ عوامی مسائل حل کرنا اداروں کی ترجیح نہیں رہا بلکہ بیشتر محکمے اسے روزمرہ کا معمول سمجھ چکے ہیں کہ لوگ مرتے رہیں اور شہر تباہ ہوتا رہے۔ ہر منصوبے اور مرمتی کام میں ذاتی مفادات، ٹھیکوں اور مالی فائدوں کو ترجیح دی جاتی ہے جب کہ شہریوں کی سلامتی اور بنیادی سہولیات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سڑکوں کی مرمت، سیوریج لائنوں کی بحالی، نکاسی آب کے موثر نظام اور مستقل نگرانی کا نظام قائم نہ کیا گیا تو کراچی کا انفرا اسٹرکچر مکمل تباہی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری بنیادوں پر گندے پانی کی نکاسی یقینی بنائی جائے، خطرناک گڑھوں کی مرمت کی جائے، فومیگشن مہم شروع کی جائے اور شہری شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر نظام قائم کیا جائے۔
شہری حلقے یہ تجویز دیتے نظر آتے ہیں کہ صفائی اور آگاہی مہمات میں این جی اوز، کمیونٹی تنظیموں اور مقامی نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے شہر کو درپیش اس انسانی و شہری بحران پر قابو پایا جا سکے۔
کراچی صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں، خوابوں اور مستقبل کا نام ہے، اگر آج بھی ذمے دار اداروں نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ٹوٹی سڑکیں، اُبلتے گٹر اور انتظامی غفلت آنے والے وقت میں مزید ناقابلِ تلافی نقصانات کا سبب بنیں گے۔